سپریم کورٹ کا مشرف کی اپیل پر اعتراض
پاکستان کی سپریم کورٹ نے سزائے موت کا سامنا کرنے والے سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل یہ اعتراض عائد کر کے واپس کر دی ہے کہ مجرم کو پہلے عدالت کے سامنے سرنڈر کرنا ہوگا۔
جہانزیب عباسی
عدالت عظمی کے رجسٹرار دفتر کی جانب سے پرویز مشرف کی سزائے موت کے فیصلے پر اپیل واپس کرتے ہوئے کہا گیا کہ سپریم کورٹ رولز سنہ 1980 کے تحت کسی مفرور مجرم کی اپیل نہیں سنی جا سکتی جب تک وہ گرفتاری نہ دیدے۔
واضح رہے کہ پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ سنانے والی خصوصی عدالت اور اس کی کارروائی کو لاہور ہائیکورٹ پہلے ہی غیر آئینی قرار دے چکی ہے تاہم ان کے وکیل سلمان صفدر نے اس کے باوجود سزائے موت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔
ادھر پاکستان بار کونسل نے بھی لاہور ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کے لیے مشاورت کی ہے جس کے تحت خصوصی عدالت کو غیر آئینی قرار دیا گیا۔
خیال رہے کہ پرویز مشرف نے اپنی اپیل میں عدالت کے سامنے پیش نہ ہونے کو اپنی گرتی صحت و بیماری بتایا ہے۔

پرویز مشرف کو خصوصی عدالت نے چھ سال ٹرائل کے بعد گذشتہ ماہ 17 دسمبر کو تین نومبر 2007 کو آئین معطل کر کے ایمرجنسی نافذ کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی۔

