پاکستان پاکستان24

سپریم کورٹ کا مشرف کی اپیل پر اعتراض

جنوری 18, 2020

سپریم کورٹ کا مشرف کی اپیل پر اعتراض

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سزائے موت کا سامنا کرنے والے سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل یہ اعتراض عائد کر کے واپس کر دی ہے کہ مجرم کو پہلے عدالت کے سامنے سرنڈر کرنا ہوگا۔

جہانزیب عباسی

عدالت عظمی کے رجسٹرار دفتر کی جانب سے پرویز مشرف کی سزائے موت کے فیصلے پر اپیل واپس کرتے ہوئے کہا گیا کہ سپریم کورٹ رولز سنہ 1980 کے تحت کسی مفرور مجرم کی اپیل نہیں سنی جا سکتی جب تک وہ گرفتاری نہ دیدے۔

واضح رہے کہ پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ سنانے والی خصوصی عدالت اور اس کی کارروائی کو لاہور ہائیکورٹ پہلے ہی غیر آئینی قرار دے چکی ہے تاہم ان کے وکیل سلمان صفدر نے اس کے باوجود سزائے موت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔

ادھر پاکستان بار کونسل نے بھی لاہور ہائیکورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کے لیے مشاورت کی ہے جس کے تحت خصوصی عدالت کو غیر آئینی قرار دیا گیا۔

خیال رہے کہ پرویز مشرف نے اپنی اپیل میں عدالت کے سامنے پیش نہ ہونے کو اپنی گرتی صحت و بیماری بتایا ہے۔

پرویز مشرف کو خصوصی عدالت نے چھ سال ٹرائل کے بعد گذشتہ ماہ 17 دسمبر کو تین نومبر 2007 کو آئین معطل کر کے ایمرجنسی نافذ کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی تھی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے