پاکستان میں کرپشن زیادہ بڑھی یا مہنگائی؟
پاکستان میں اشیائے خورو نوش کی قیمتوں کا جائزہ لینے والے ادارہ شماریات نے کہا ہے کہ نئے سال کے پہلے ماہ کے تیسرے ہفتے میں چینی تین روپے 60 پیسے فی کلو مہنگی ہوئی۔
ادارہ شماریات کے مطابق جنوری 2019 سے جنوری 2020 کے ایک سال کے دوران چینی 18روپے 86 پیسے فی کلو مہنگی ہوئی جبکہ ایک سال میں آٹے کا 20 کلو تھیلا 167 روپے مہنگا ہوا۔
جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق چکن برائلر مرغی کی قیمت پونے چار روپے فی کلو بڑئی اور دالیں، گائے کا گوشت اور چائے کی پتی بھی مہنگی ہوئی۔
صارفین کی ایک بڑی تعداد کا خیال ہے کہ حالیہ مہنگائی کی لہر کے پیچھے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی پالیسی پر عمل درآمد کے علاوہ کرپشن بھی ایک وجہ ہے۔
سوشل میڈیا پر ہزاروں افراد نے پاکستان کی حکومت میں شامل ’شوگر اور آٹا مافیا‘ کا ذکر کیا ہے۔
لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ ٹرانسپیرنسی کی رپورٹ میں گذشتہ ایک سال میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں بڑھتی کرپشن کی اصل وجہ شوگر اور فلور ملز مالکان اور ان کے ساتھ ملی بھگت کرنے والے سرکاری اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیات ہیں۔
عنایت اللہ کامران نے ٹویٹ کیا ہے کہ ’یہ وہی مافیا ہے جو پرویز مشرف کے دور میں تھا۔ کیا یہ سب تبدیل ہوگا؟‘
ابابیل نامی ٹوئٹر ہینڈل سے لکھا گیا کہ شوگر مافیا اور جہانگیر ترین جیسے لوگوں کے لیے ٹیکس میں چھوٹ جبکہ عوام پر اربوں روپے ٹیکس کا بوجھ لاد دیا گیا ہے۔
نیبل گل کشمیری نے لکھا کہ معلوم نہیں وزیراعظم عمران خان کیسے مافیا سے لڑ رہے ہیں کیونکہ عام لوگ تو بدترین مہنگائی کا شکار ہو گئے ہیں۔

