پاکستان پاکستان24

پارلیمنٹ: مراد سعید کو محسن داوڑ کا جواب

جنوری 30, 2020

پارلیمنٹ: مراد سعید کو محسن داوڑ کا جواب

پاکستان کی پارلیمنٹ میں حکومتی ارکان نے پشتون تحفظ موومنٹ سے تعلق رکھنے والے ارکان قومی اسمبلی علی وزیر اور محسن داوڑ کو بات کرنے سے روکنے کی کوشش کی ہے۔

مواصلات کے وزیر مراد سعید نے سپیکر سے علی وزیر کو تقریر کرنے کی اجازت نہ دینے کے لیے کہا۔ مراد سعید کا کہنا تھا کہ جن ارکان نے پارلیمنٹ کے خلاف بات کی پہلے ان سے وضاحت مانگی جائے۔ جس پر ارکان نے مراد سعید کو پارلیمنٹ کے بارے میں ان کی پارٹی کے سربراہ اور وزیراعظم عمران خان کے الفاظ یاد دلائے۔

مراد سعید نے کہا کہ پشتون موومنٹ کے رہنماؤں کے انڈیا اور افغانستان سے تعلقات ہیں۔

جمعرات کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں محسن داوڑ نے کہا کہ پی ٹی ایم کے قائد منظور پشتین کو 27 تاریخ کو گرفتار کیا گیا
اور الزام وہی ہے جو فاطمہ جناح، خیر بخش مری، باچا خان سمیت دیگر پر لگا۔

محسن داوڑ نے کہا کہ ان افراد پر ایک بھی جرم ثابت نہیں ہوا، اگر کسی کیخلاف جرم ثابت ہوا ہے تو پرویز مشرف کیخلاف ہوا، پرویز مشرف آئین کو ایک کاغذ کا ٹکڑا کہتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ”ایک ادارے کے ترجمان نے پرویز مشرف کے جرم کی وضاحت پیش کی، ہم کس طرف جارہے ہیں۔ منظور پشتین کی گرفتاری کے خلاف احتجاج میں مجھے بھی گرفتار کیا گیا۔ ایک سپاہی چلا رہا تھا ہندوستان مردہ باد اور اسلام زندہ باد۔“

محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ جب ڈالرز کی بات تھی تو تب میں اچھا تھا اور اب کفر کے فتوے لگ رہے ہیں۔ ”عمران خان نے اس پارلیمنٹ کے بارے کیا الفاظ استعمال کیے تھے۔ ہم نے آج تک ایک گملہ نہیں توڑا، آپ لوگوں نے پارلیمنٹ پر حملہ کیا۔“

انہوں نے کہا کہ موجودہ صدر اور وزیراعظم پر دہشتگردی کے مقدمات ہیں، ایک طرف وزیر دفاع مذاکرات کی دعوت دیتے ہیں اور دوسری طرف گرفتار کرلیا جاتا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے