پاکستان پاکستان24

وزیراعظم عمران خان کا قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ

مارچ 4, 2021

وزیراعظم عمران خان کا قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے سینیٹ الیکشن میں اپنی جماعت کے امیدوار حفیظ شیخ کی قومی اسمبلی سے ووٹ لینے میں ناکامی کے بعد اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیراعظم کو 342 کے ایوان میں 142 ووٹوں کی ضرورت ہوگی۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن سینیٹ کے لیے شفاف انتخابات کرانے میں ناکام رہا ہے۔

بدھ کی شب وفاقی وزرا اسد عمر، شفقت محمود، شیریں مزاری، چوہدری اور حکومتی مشیران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اپوزیشن کے قول و فعل میں تضاد ہے۔

انہوں نے سینیٹ کے دن کو پاکستان کی جمہوریت کے لیے افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’الیکشن کمیشن کو اپنی ذمہ داری نبھانا چاہیے تھی۔‘

انہوں نے یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے علی حیدر گیلانی کی ویڈیو کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اس سے علی حیدر گیلانی کی شکل، آواز اور حرکتیں قوم کے سامنے آئیں۔

وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ویڈیو سامنے آنے کے بعد فواد چوہدری نے الیکشن کمیشن سے رجوع کیا تو وہاں سناٹا تھا۔‘

’الیکشن  کمیشن کو تجویز دی گئی تھی کہ ٹیکنالوجی استعمال کر لی جائے تاکہ کرپشن کی راہ رکے مگر کہا گیا کہ اگلی بار ایسا کیا جائے گا اب وقت کم ہے۔‘

انہوں نے طنز کیا کہ ’الیکشن کمیشن کو صرف چند سو بیلٹ پیپرز چھاپنا تھے، لاکھوں نہیں تھے، جو انتظام نہیں ہو سکتا تھا۔‘

شاہ محمود نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’اس کے قول و فعل میں تضاد ہے۔‘

شاہ محمود کے مطابق ’ضمیر کے سوداگروں کے خلاف لڑائی جاری رکھیں گے اور ان کا سیاسی طور پر مقابلہ کریں گے۔‘

قبل ازیں وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ ’سینیٹ الیکشن کے رزلٹ سے عمران خان کے تمام خدشات درست ثابت ہو گئے ہیں۔ آج رات مشاورت کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔‘

بدھ کو سینیٹ الیکشن کے نتائج سامنے آنے کے بعد راولپنڈی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شبلی فراز نے پی ڈی ایم کو سیاہ قوتوں کا ٹولہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ ضمیروں کے سوداگر ہیں۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے