لاہور میں ماں بچی کی موت، شوہر کے الزامات پر پولیس افسر معطل
لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں بغیر ڈھکن مین ہول کے گٹر میں گرنے والی خاتون کے شوہر کے پولیس اہلکاروں پر تشدد اور دیگر سنگین الزامات سامنے آنے کے بعد ڈی آئی جی آپریشن فیصل کامران نے کارروائی کی ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق مرنے والی خاتون کے شوہر کو حراست میں لینے، تشدد کرنے کے الزامات پر ایس ایچ او بھاٹی گیٹ زین عباس کو معطل جبکہ ڈی ایس پی کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق ایس پی سٹی، متعلقہ پولیس کے رسپانس کا تعین کے لیے اعلی سطح کی تحقیقات ہوں گی۔
ڈی آئی جی آپریشنز نے آئی اے بی کو آزادانہ انکوائری کے لیے خط بھی لکھ دیا ہے۔
خاتون کے شوہر نے بیان دیا تھا کہ جب وہ اہلیہ اور بچی کے سیوریج لائن میں گرنے کی اطلاع دینے کے لیے پولیس سٹیشن گئے تو پولیس نے اُن کو ہی حراست میں لے لیا، ایس پی اور ایس ایچ او زین نے اُن پر تشدد کیا۔
میری بیوی کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں تھی اس کے ساتھ سیر کے لیے آیا تھا، میں نے بتایا کہ دونوں کو اپنی آنکھوں سے گرتے دیکھا، ایس پی اور ایس ایچ او کہتے تھے تم جھوٹ بول رہے ہو، پولیس نے میرا موبائل فون بھی لے لیا تھا، جب واقعہ ہوا ایک بیٹا والدہ کے پاس تھا۔
بیان کے مطابق ایس پی اور ایس ایچ او یہ کہتے رہے یہ تسلیم کرو تم نے اپنی بیوی اور بچی کو قتل کیا ہے، پولیس مجھ سے دونوں کا قتل زبردستی منوانا چاہتی تھی، پولیس نے میرے ساتھ میرے کزن تنویر کو بھی پکڑا ہوا تھا۔

