پاکستان

سزا کے خلاف اپیلوں پر نوٹس، ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی کی پرانے مقدمے میں ضمانت

فروری 19, 2026

سزا کے خلاف اپیلوں پر نوٹس، ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی کی پرانے مقدمے میں ضمانت

سوشل میڈیا پوسٹوں پر 17 برس قید کی سزا کاٹنے والے ایڈوکیٹ ایمان مزاری اور ایڈوکیٹ ہادی علی چٹھہ کی سزاؤں کی معطلی کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر اپیل پر جسٹس محمد آصف نے حکومت کو نوٹس جاری کر دیے تاہم سماعت کی اگلی تاریخ نہیں دی۔

‏جمعرات کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزاؤں کے خلاف اپیلوں پر بھی نوٹس جاری کیے گئے۔

‏عدالت نے نیشنل سائبر کرائم تفتیشی ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو نوٹس جاری کر کے جواب طلب کیا۔

‏ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے ایڈووکیٹ فیصل صدیقی، زینب جنجوعہ اور دیگر وکلا پیش ہوئے۔

‏ فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے کی جج مجوکہ کی عدالت سے ٹرانسفر کی درخواست ابھی ہائیکورٹ میں زیر التوا تھی کہ ٹرائل کورٹ نے سزا کا فیصلہ سُنا دیا۔

‏اُن کا کہنا تھا کہ دو گواہوں کا بیان ملزمان کی غیرموجودگی میں ریکارڈ کیا گیا۔

فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ عجیب یہ بھی ہوا جب فیصلہ آ چکا تو ٹرائل کورٹ کے جج نے اس میں سے ایک پیراگراف ہی نکال دیا۔

وکیل فیصل صدیقی کا کہنا تھا کہ سزا دینی ہے تو 10 بار سزا دیں لیکن ٹرائل تو قانون کے مطابق کریں۔

‏ جسٹس محمد آصف نے کہا کہ درخواست پر نوٹس کر رہے ہیں اس دوران مقدمے کے ریکارڈ کی پیپر بکس بھی آ جائیں گی۔

‏ فیصل صدیقی نے استدعا کی کہ سزا معطلی کی درخواست پر اگلی تاریخ قریب کی دے دیں، میں کراچی سے آتا ہوں اس لیے میں جب یہاں آ رہا ہوں اس دن کی تاریخ دے دیں۔

جسٹس محمد آصف نے استفسار کیا کہ آپ کب آئیں گے؟

‏ فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ پیر یا منگل کی تاریخ رکھ لیں۔

‏ جسٹس محمد آصف نے کہا کہ آپ کو تاریخ مل جائے گی۔

‏عدالت نے نوٹس جاری کر کے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔

‏سماعت کے دوران ایک موقع پر ایڈوکیٹ فیصل صدیقی نے اپیل کنندگان کی طرف دلائل میں جب ٹرائل کورٹ کے اپنے ہی لکھے ہوئے آرڈر میں ازخود ردو بدل کا ذکر کیا تو یہ شعر پڑھا:

‏ایک جھوٹی تسلی بھی جینے کا سہارا ہے
‏گر وہ بھی نہ ہو تو انسان مر جائے

‏دوسری جانب اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابو الحسنات نے ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ایڈووکیٹ ہادی علی چٹھہ کے خلاف تین دیگر مقدمات میں ضمانتیں منظور کر لی ہیں۔

دونوں کی جانب سے ایڈووکیٹ ریاست علی آزاد پیش ہوئے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جس مقدمے میں ضمانت دی گئی اس ایف آئی آر میں 23 جنوری کو اسلام آباد پولیس نے کمانڈو ایکشن کرتے ہوئے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو گاڑیوں کے شیشے توڑ کر حراست میں لیا تھا اور اس دوران کوریج کرنے والے رپورٹرز کے موبائل فون بھی چھین لیے تھے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے