پاکستان

صحافی مطیع اللہ جان پر فردِ جُرم عائد کیے جانے سے قبل فرانزک کی رپورٹ منفی

فروری 19, 2026

صحافی مطیع اللہ جان پر فردِ جُرم عائد کیے جانے سے قبل فرانزک کی رپورٹ منفی

سینیئر صحافی مطیع اللہ جان پر درج کیے گئے منشیات اور دہشت گردی کے مقدمے میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں پولیس نے پنجاب سائنس فرانزک لیبارٹری کی رپورٹ پیش کی ہے۔

گزشتہ دو سماعتوں کے دوران مطیع اللہ جان کے وکلا بیرسٹر عبدالقدیر، بیرسٹر احد، ایڈوکیٹ فیاض اور ایڈوکیٹ شاھد اکبر عباسی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو بتایا کہ جب قانون کے مطابق منشیات برآمدگی کی ویڈیو ہی نہیں بنائی گئی تو پھر پولیس نے کس چیز کو فرانزک کے لیے لیبارٹری بھیجا ہے۔

ان دلائل کے باجود اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس کے بینچ نے پولیس کو فرانزک کرانے کے لیے دو بار مہلت دی۔

اس سے قبل اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا کے سامنے بھی مطیع اللہ جان کے وکیل میاں علی اشفاق نے یہی دلائل دیے۔

اُن کا کہنا تھا کہ جب قانون کے مطابق شواہد ہی موجود نہیں تو فردِ جُرم کیسے عائد کی جا سکتی ہے۔ اس دوران ایک سال اور تین ماہ کا وقت گزرنے کے باوجود کسی مبینہ برآمد شدہ مواد کا فرانزک بھی نہیں کرایا گیا۔

عدالت نے درخواست مسترد کر کے فردِ جُرم عائد کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا تو اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کی گئی۔

اب ہائیکورٹ میں تیسری سماعت پر پنجاب سائنس فرانزک لیب نے رپورٹ پیش کر کے کہا ہے کہ اسلام آباد پولیس کی جانب سے بھیجا گیا مواد منشیات کی قسم آئس نہیں۔

ادھر اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے منگل، بدھ اور پھر جمعرات 26 کو فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ دی۔

مطیع اللہ جان کے وکیل نے ایک اور درخواست کے ذریعے منشیات کے مقدمے کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلانے پر دائرہ اختیار کو بھی چیلنج کیا تاہم جج طاہر عباس سپرا نے دلائل سُننے کے بعد وہ درخواست بھی مسترد کر دی اور فردِ جُرم عائد کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا۔

مطیع اللہ جان پر پولیس کی جانب سے درج کیے گئے مقدمے میں منشیات کے علاوہ دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئیں جن میں پولیس سے اسلحہ چھیننے کا الزام شامل ہے۔

‏جسٹس ارباب طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس پر مشتمل بینچ نے استغاثہ کے وکیل سے کہا کہ فرانزک رپورٹ کے آنے کے بعد ٹرائل کورٹ منشیات سمگلنگ اور دہشت گردی کے مقدمے میں سمگلنگ کی حد تک فردِ جرم کیسے عائد کر سکتی ہے۔

عدالت نے لیبارٹری رپورٹ سمیت مطیع اللہ جان کی دائر درخواست کو واپس ٹرائل کورٹ بھیجتے ہوئے سرکار/پولیس کو ضمنی چالان جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

جج طاہر عباس سپرا نے اب دہشت گردی کی دفعات کی حد تک فرد جُرم عائد کرنے کی اگلی تاریخ 26 فروری مقرر کی ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے