کوہاٹ میں ڈاکٹر مہوش حسنین کے قتل کے خلاف احتجاج، ملزم تاحال مفرور
کوہاٹ میں 36 سالہ ڈاکٹر مہوش کو نامعلوم ملزم نے اتوار کی شب سات گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا، اُن کی نماز جنازہ ادا کیے جانے کے بعد سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔
ڈاکٹر مہوش حسنین ڈویژنل ہیڈکوارٹر ہسپتال کوہاٹ میں اپنے فرائض انجام دے رہی تھیں۔
مقامی افراد اور عینی شاہدین کے مطابق اتوار کو ڈاکٹر مہوش حسنین ہسپتال میں مریضوں کا طبی معائنہ کر رہی تھیں۔ اُن کے کمرے میں رش تھا۔ اس دوران ایک شخص ایک مریضہ کو لے کر آیا۔
بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر مہوش نے مریضہ کے ساتھ آنے والے مرد سے کہا کہ وہ باہر انتظار کرے جب معائنہ ہوگا تو اُن کی مریضہ آ جائیں گی۔
عینی شاہدین کے مطابق اس بات پر کچھ تکرار ہوئی۔
افطار کے بعد رات آٹھ بجے کے لگ بھگ جب ڈاکٹر مہوش گھر جانے کے لیے ہسپتال سے نکلیں تو رکشے میں بیٹھتے ہوئے اُن پر نامعلوم ملزم نے فائرنگ کر دی۔
پولیس سٹیشن کوہاٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) میں ڈاکٹر مہوش کے قتل کا مقدمہ نامعلوم ملزم کے خلاف درج کر لیا گیا ہے۔
تھانہ محرر نے پاکستان24 www.pakistan24.tv کو بتایا کہ مقتولہ کی عمر 36 سال تھی اور مقدمے کے مدعی اُن کے شوہر محمد حسنین ہیں۔
پولیس کا کہنا تھا کہ تاحال ملزم کی شناخت کی جا سکی ہے اور نہ ہی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔
رات بھر ہسپتال میں تعینات عملہ سراپا احتجاج رہا جبکہ ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن نے پیر کی صُبح ہسپتال کی ایمرجنسی اور شعبہ بیرونی مریضاں کو بند کر کے احتجاج کیا۔
کوہاٹ کی ضلعی انتظامیہ نے احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کے ساتھ مذاکرات کیے تاکہ ہسپتال کی معمول کا کام شروع کیا جا سکے۔
ڈویژنل ہیڈکوارٹر ہسپتال کو علاقے میں لاکھوں مریضوں کے رش کا سامنا ہے۔ یہ خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں قائم سب سے بڑا ہسپتال ہے جہاں قریبی اضلاع کے مریض بھی بڑی تعداد میں علاج معالجے کے لیے آتے ہیں۔

