پاکستان

افغانستان کا سرحد پر پاکستانی چوکیوں پر حملہ، اسلام آباد کا جواب دینے کا دعویٰ

فروری 26, 2026

افغانستان کا سرحد پر پاکستانی چوکیوں پر حملہ، اسلام آباد کا جواب دینے کا دعویٰ

پاکستان کی حکومت نے کہا ہے کہ افغان طالبان نے خیبر پختونخوا میں پاک-افغان سرحد کے متعدد مقامات پر بلااشتعال فائرنگ شروع کی جس کا پاکستانی فورسز کی جانب سے فوری اور بھرپور جواب دیا جا رہا ہے۔

قبل ازیں افغان طالبان انتظامیہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ اُن کی افواج نے فضائی حملوں کا جواب دینے کے لیے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر حملے کیے ہیں۔

پاکستان کی وزارت اطلاعات نے جمعرات کی شب اپنے بیان میں کہا کہ ’طالبان رجیم کی فورسز کو چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ سیکٹرز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘

’ابتدائی اطلاعات کے مطابق افغان جانب بھاری جانی نقصان ہوا ہے اور ان کی متعدد چوکیوں اور آلات کو تباہ کر دیا گیا ہے۔‘
بیان مزید کہا گیا کہ ’پاکستان اپنی علاقائی سالمیت اور اپنے شہریوں کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گا۔‘
اس سے قبل جمعرات ہی کی شب افغان طالبان نے کہا تھا کہ افغانستان کی افواج نے سرحد کے ساتھ پاکستانی فوجی پوسٹوں پر حملے شروع کر دیے ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جمعرات کو کہا کہ یہ اقدام حالیہ پاکستانی فضائی حملوں کے جواب میں کیا گیا ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ ’پاکستانی فوجی حلقوں کی جانب سے بار بار اشتعال انگیزی اور خلاف ورزیوں کے جواب میں ڈیورنڈ لائن کے ساتھ پاکستانی فوجی ٹھکانوں اور تنصیبات کے خلاف بڑے پیمانے پر جارحانہ کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں۔‘
بیان میں ڈیورنڈ لاین کے ساتھ موجود تنصیبات کا حوالہ دیا گیا ہے۔

دوسری جانب افغان فوج کا کہنا ہے کہ اس نے پاکستان کے خلاف ’شدید حملے‘ شروع کر دیے ہیں۔
مشرقی افغانستان میں فوج کے ترجمان ولی اللہ محمدی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا، ’ننگرہار اور پکتیا میں پاکستان کے فضائی حملوں کے جواب میں… مشرقی زون کی سرحدی فورسز نے پاکستانی چوکیوں پر شدید حملے شروع کر دیے ہیں۔‘
ان کا اشارہ صوبہ ننگرہار اور پکتیا میں ہونے والی کارروائیوں کی طرف تھا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے