عالمی خبریں

اسرائیل کے ایران پر ’پیشگی‘ حملوں کے اعلان کے بعد تہران میں دھماکے

فروری 28, 2026

اسرائیل کے ایران پر ’پیشگی‘ حملوں کے اعلان کے بعد تہران میں دھماکے

تہران پر حملوں کے بعد صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اُن کی افواج ایران کے خلاف ایک بڑی فوجی کارروائی کر رہی ہیں۔ ’ہم ایران کے میزائل تباہ کریں گے اور ان کی میزائل کی صنعت کو زمین بوس کر دیں گے۔ یہ مکمل طور پر تباہ ہو جائے گا‘۔

قبل ازیں اسرائیل نے کہا تھا کہ اس نے ایران پر ایک پیشگی حملہ کیا ہے جس کے بعد تہران میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں-

اسرائیلی حملے نے مشرق وسطیٰ کو ایک نئے فوجی تنازعے میں دھکیل دیا ہے۔

اس پیش رفت کے بعد تہران کے مغرب کے ساتھ طویل عرصے سے جاری جوہری تنازع کے سفارتی حل کی اُمیدیں مزید کم ہو گئی ہیں۔

نیو یارک ٹائمز نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکہ کی طرف سے ایران پر حملے جاری ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ ’ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای تہران میں موجود نہیں تھے اور انہیں ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔‘

ایران کے دارالحکومت میں ہونے والا یہ حملہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفاتر کے قریب ہوا۔ ایران کے سرکاری ٹی وی نے دفاتر کے علاقے میں دھماکے کی تصدیق کی۔
اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ حملوں کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی جبکہ یہ امکان بھی رد نہیں کیا گیا کہ خامنہ ای کو بھی نشانہ بنایا گیا ہو۔

سرکاری میڈیا کے مطابق تہران کی یونیورسٹی سٹریٹ اور ’جمہوری‘ علاقے میں کئی میزائل داغے گئے جبکہ شمالی سید خندان علاقے میں ممکنہ طور پر دھماکہ ہوا۔

اسنا کے مطابق وسطی تہران میں پاسچر سٹریٹ کے قریب بھی دھوئیں کے گہرے بادل بلند ہوتے دیکھے گئے۔
خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سنیچر کو اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ ان کے ملک نے ایران پر حملہ کر دیا ہے اور انہوں نے ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔

ابتدائی طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملے کا ہدف کیا تھا۔ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ نے بڑی تعداد میں لڑاکا طیاروں اور جنگی بحری جہازوں اور کو خطے میں تعینات کیا ہے تاکہ ایران کو اپنے جوہری پروگرام پر معاہدے کے لیے دباؤ میں لایا جا سکے۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ حملہ ’خطرات کو ختم کرنے کے لیے‘ کیا گیا ہے۔ انہوں نے فوری طور پر مزید وضاحت نہیں دی۔

تہران میں شہریوں نے دھماکے کی آواز سنی۔ بعد ازاں ایران کے سرکاری ٹی وی نے دھماکے کی خبر دی تاہم وجہ نہیں بتائی۔

اسی وقت اسرائیل میں سائرن بجنے لگے۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے ’عوام کو تیار کرنے کے لیے پیشگی انتباہ جاری کیا ہے کہ ممکن ہے اسرائیل کی طرف میزائل داغے جائیں۔‘
امریکی فوج نے اس حملے پر فوری تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

اسرائیلی براڈکاسٹنگ اتھارٹی نے رپورٹ کیا کہ یہ ایران پر اسرائیل اور امریکہ کا مشترکہ حملہ تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق غیر ملکی فضائی کمپنیوں نے اسرائیل کے لیے اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے