امریکہ کا 15 نکاتی مجوزہ منصوبہ مسترد، جنگ بندی کے لیے ایران کی پانچ شرائط
امریکی صدر ٹرمپ کی جنگ بندی کی تجاویز کے جواب میں ایران نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر خودمختاری ’اس کا فطری اور قانونی حق‘ ہے۔
یہ دعویٰ ایک نامعلوم ’سینیئر سیاسی و سکیورٹی عہدیدار‘ کی جانب سے ایران کے پریس ٹی وی کو بھیجے گئے بیان میں کیا گیا ہے۔
تاہم سمندری قانون کے تحت کوئی بھی ملک آبنائے ہرمز پر اکیلے اختیار نہیں رکھتا۔
بین الاقوامی قانون کے تحت آبنائے ہرمز ایک مشترکہ آبی گزرگاہ ہے، جہاں ایران اور عمان دونوں اپنی اپنی ساحلی پٹی سے 12 بحری میل تک اسے اپنا بحری علاقہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے سمندری قانون کے مطابق تمام جہازوں کو ’سمندری گزرگارہ عبور‘ کرنے کی اجازت ہے اور ساحلی ریاستیں ان کے راستے میں مداخلت نہیں کر سکتیں۔
آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے جہاز عام طور پر جن دو مرکزی شپنگ روٹس کا استعمال کرتے ہیں، وہ زیادہ تر عمانی علاقائی پانیوں سے گزرتے ہیں کیونکہ وہاں سمندر کی گہرائیاں زیادہ موافق ہیں۔
آبنائے ہرمز کے تنگ ترین مقام کے دونوں جانب دونوں شپنگ لینیں مختصر فاصلے کے لیے ایرانی علاقائی پانیوں میں داخل ہوتی ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے امکان کے بارے میں متضاد بیانات اور واضح مؤقف کا فقدان برقرار ہے۔

