دو لاکھ ترانوے ہزار مقدمات
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کے بابے رحمت دین کے بارے میں دی گئی مثال اور آج لاہور کے میو ہسپتال کے ان کے دورے نے ملک میں بحث کو جنم دیا ہے ایسے وقت میں معلوم ہوا ہے کہ سپریم کورٹ میں زیر التواء مقدمات کی تعداد اڑتیس ہزار کی حد عبور کر گئی ہے۔
سپریم کورٹ میں زیر التواء مقدمات میں ایک سال میں سات ہزار کا اضافہ ہوا ہے اور یکم دسمبر تک عدالت عظمی میں زیر التواء مقدمات کی تعداد 38200 ہو گئی ہے۔ گزشتہ چھ سال کے مقابلے میں سپریم کورٹ میں زیر التواء مقدمات کی تعداد دو گنا ہوگئی ہے۔
سنہ دو ہزار گیارہ میں سپریم کورٹ میں زیر التواء مقدمات کی تعداد 19 تقریبا ہزار تھی ۔ یکم نومبر 2016 کو عدالت عظمی میں زیر التواء مقدمات کی تعداد قریبا 31 ہزار ایک سو تھی ۔ سپریم کورٹ نے نومبر 2016 سے دسمبر 2017 تک پندرہ ہزار چھ سو مقدمات نمٹائے۔ سپریم کورٹ میں رواں سال نئے بائیس ہزار تین سو مقدمات کا اندراج ہوا ۔ تمام ہائی کورٹس میں زیر التواء مقدمات کی تعداد دسمبر 2017 تک دو لاکھ ترانوے ہزار سے زائد ہو گئی ہے۔ ماتحت عدلیہ میں یکم دسمبر 2017 تک مقدمات کی تعداد پندرہ لاکھ اکتالیس ہزار سے زیادہ ہے۔

