پاکستان

مقدمات سیاسی ہیں، چیف جسٹس

جنوری 1, 2018

مقدمات سیاسی ہیں، چیف جسٹس

سپریم کورٹ میں انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران چیف جسٹس نے نیشنل پارٹی کے وکیل راحیل کامران کی التوا کی درخواست مسترد کر دی_ ایک اور درخواست گزار وکیل نے استدعا کی کہ تیاری کے لیے وقت دیں اور فریقوں کو نوٹس جاری کریں_
چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے نوٹس کا کیس بنائیں، پھر ہی نوٹس جاری کریں گے، پارلیمنٹ قانون بنانے کی سپریم باڈی ہے، آپ کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے بنائے گئے قانون کالعدم قرار دے دیں، چیف جسٹس نے پوچھا کہ پارلیمنٹ کے قانون کو کالعدم قرار دینے کے اصول کیا ہیں؟ سپریم کورٹ نے آج تک کتنے قوانین کو کالعدم قرار دیا، چیف جسٹس نے کہا کہ قوانین کالعدم قرار دینے والے عدالتی فیصلوں کی نظیریں لائیں، یہ سیاسی مقدمات ہیں، ایسا نہیں ہوگا کہ درخواست دائر ہو اور نوٹس کر دیں، عدالت کو اتنا آسان نہ لیں، ہم نے قانون کے مطابق چلنا ہے _

وکیل نے کہا کہ عدالتی فیصلوں کی نظیریں لانے کیلئے وقت دیں، شہر سے باہر ہونے کی وجہ سے مقدمے کی تیاری نہیں کر سکا _ چیف جسٹس نے کہا کہ میں بھی شہر سے باہر تھا رات واپس آیا ہوں، کیس مقرر تھا تو آپ کو تیاری بھی کرنی چاہیے تھی _

اس کیس کو تھوڑی دیر بعد  باری پر سنیں گے،

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے