قومی سلامتی اجلاس میں کیا ہوا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان مخالف بیان بازی کے بعد اسلام آباد میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا ہے_
اس اجلاس کے بعد کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا تاہم وزیر دفاع نے برطانوی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعاون اور مل کر کام کرنا ہوگا کیونکہ منفی بیان بازی سے اہداف کو حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
اسلام آباد میں وزیر اعظم کی سربراہی میں ہونے والے قومی سلامتی کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر دفاع خرم دستگیر نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ اجلاس میں گذشتہ چند ماہ سے صدر ٹرمپ سمیت کئی امریکی عمائدین کی جانب سے سامنے آنے والے منفی بیانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
خرم دستگیر نے بتایا کہ قومی سلامتی کے اس اجلاس میں طے پایا ہے کہ اکھٹے مل کر اور تعاون سے افغانستان میں امن کی جدوجہد کریں گے اور دہشت گردی کے خلاف لڑیں گے تو ہمیں بہتر کامیابی ہوگی، بجائے یہ کہ ہم اپنی منفی بیان بازی سے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کریں

