متفرق خبریں

مرغی نہیں سوا لاکھ کی چوری

فروری 8, 2019

مرغی نہیں سوا لاکھ کی چوری

جہانزیب عباسی

چوری کے الزام میں قید گلگت سے تعلق رکھنے والے ملزم محمد زاہد نے سپریم کورٹ سے ضمانت پر رہائی کیلئے رجوع کر لیا ہے ۔ ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست دائرکرتے ہوئے محمد زاہد کے وکیل نے بتایا کہ ملزم کو 17اپریل 2018 کے دن تھانہ کورال کی حدود سے گرفتار کیا گیا تھا ۔

عدالت عظمی کو بتایا گیا ہے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ، ایڈیشل سیشن جج اور اسلام آباد ہائیکورٹ نے ملزم کی ضمانت پر رہائی کی درخواستیں خارج کر دی ہیں ۔ ملزم محمد زاہد کے خلاف چوری کے وقوعے کی ایف آئی آر 17اپریل 2018 کو تھانہ کورال میں درج کی گئی تھی ۔

ایف آئی آر میں مدعی راجہ سجاد حسین نے موقف اختیار کیا تھا کہ 6 فروری ۲۰۱۸ کی رات وہ رئیل اسٹیٹ/پراپرٹی کا دفتر بند کرکے گھر چلا گیا جب 7فروری کو صبح واپس آیا تو پتہ چلا کہ دفتر سے ایک عدد پانی والا ڈسپنسر، کمپیوٹر بمعہ سی پی یو، دو گرینڈر، پندرہ مرغیاں، ایک لیپ ٹاپ اور بیڈ منٹن کا مکمل سیٹ چوری ہوگیا جن کی کل مالیت ایک لاکھ ۲۵ ہزار روپے بنتی ہے ۔

دو ماہ دس بعد درج کی گئی ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ پہلے خود تلاش کرنے کی کوشش کی، اسی دوران اہل علاقہ سے پتہ چلا کہ کچھ دن قبل گلگت سے تعلق رکھنے والے محمد زاہد نامی شخص کو چوری کے الزام میں مقامی افراد نے پکڑ کر مارا پیٹا تھا ۔

ایف آئی آر کے مطابق مدعی راجا سجاد نے لکھوایا کہ مجھے یقین ہے میرا سامان بھی محمد زاہد نے چرایا ہے اُسے گرفتار کرکے بازیاب کرایا جائے ۔ ہائیکورٹ نے ضمانت پر رہائی کی درخواست خارج کرتے ہوئے لکھا ہے کہ تفتیشی نے بتایا کہ اس کیس میں چالان پیش ہوچکا ہے اور ٹرائل جاری ہے ۔

اہم بات یہ ہے کہ ملزم محمد زاہد کو ایف آئی آر کے اندراج کی تاریخ 17اپریل 2018 کے بعد گرفتار کیا گیا ۔ اگر مقدمے کے اندراج کے دن سے ہی ملزم کو گرفتارکرکے اڈیالہ جیل بھیجنے سے اب تک کا عرصہ گنا جائے تو یہ ایک سال نہیں بلکہ تقریبا ساڑھے نو ماہ بنتے ہیں ۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ ملزم پر صرف پندرہ مرغیوں کی چوری کا الزام نہیں بلکہ پندرہ مرغیوں کے علاوہ ایک عدد پانی والا ڈسپنسر، کمپیوٹر بمعہ سی پی یو، دو گرینڈر، ایک لیپ ٹاپ اور بیڈ منٹن کھیلنے کا مکمل سیٹ چوری کرنے کا بھی الزام ہے جس کی مالیت ایک لاکھ ۲۵ ہزار سے زائد ہے ۔

ہائیکورٹ نے ضمانت مسترد کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ٹرائل کورٹ میں مقدمہ جاری ہے، اور ریکارڈ/ ریکوری میمو سے معلوم ہوا کہ ملزم سے مسروقہ سامان کا بڑا حصہ برآمد بھی کیا گیا ہے ۔12ستمبر 2018کو ٹرائل کورٹ نے جبکہ 29نومبر 2018کو ایڈیشل سیشن جج نے ملزم کی ضمانت بعد از گرفتار ی کی درخواستیں خارج کی تھیں ۔12مئی 2018کو مقدمے کا چالان پیش کیا گیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے ملزم کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری مسترد کرتے ہوئے دو ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دیا تھا ۔

سپریم کورٹ کو بتایا گیا ہے کہ ہائیکورٹ نے حقائق کو درست طور پر نہ دیکھ کر ضمانت پر رہا کرنے کی درخواست مسترد کی ہے اس لئے ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جائے ۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے