متفرق خبریں

جھوٹا گواہ پکڑ میں آ گیا

فروری 20, 2019

جھوٹا گواہ پکڑ میں آ گیا

پاکستان کی سپریم کورٹ نے قتل کے مقدمے میں جھوٹی گواہی دینے پر پولیس رضاکار کا مقدمہ ماتحت عدالت کے پاس بھیج دیا ہے ۔

سپریم کورٹ نے جھوٹی گواہی دینے والے پولیس رضا کار کا کیس انسداد دہشتگردی کی عدالت کو ارسال کرتے ہدایت کی ہے کہ جس عدالت میں جھوٹی گواہی دی وہ اس کے خلاف سیشن کورٹ میں شکایت دائر کرے ۔

پولیس رضا کار محمد ارشد نے کہا کہ ’میری دو چھوٹی چھوٹی بیٹیاں ہیں ۔؛ چیف جسٹس نے کہا کہ بچوں کے بارے میں جھوٹا حلف اٹھاتے وقت سوچنا تھا ۔

چیف جسٹس نے جھوٹی گواہی دینے والے محمد ارشد سے کہا کہ آپ نے کہا تھا کہ چھرے آپکی پینٹ پر بھی لگے، کیا آپ نے لوہے کی پتلون پہنی ہوئی تھی؟

محمد ارشد نے کہا کہ بازو میں لگے چھرے خارش کرکے نکال دیے تھے ۔ محمد ارشد نے عدالت میں کہا کہ ’حلفا کہتا ہوں میں نے سچ بولا ۔؛
چیف جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ پہلا بیان بھی آپ نے حلف پر دیا تھا، حلف میں کہا جاتا ہے جھوٹ بولوں تو اللہ کا قہر نازل ہو ۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ممکن ہے اللہ کو قہر نازل کرنا منظور ہوگیا ہو ۔؛

عدالت نے محمد ارشد کی جھوٹی گواہی پر وضاحت مسترد کرتے قرار دیا کہ محمد ارشد نے انسداد دہشتگردی کی عدالت میں جھوٹ بولا ۔

عدالت عظمی نے اپنے حکم نامے میں لکھا کہ دہشتگردی کی عدالت جھوٹ بولنے پر سیشن کورٹ میں شکایت دائر کرے، سیشن کورٹ شکایات پر قانونی کارروائی عمل میں لائے ۔


چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جھوٹے گواہ کے خلاف لیے گئے نوٹس کی سماعت کی ۔

سپریم کورٹ کے باہر سماعت کے بعد محمد ارشد کی دوڑ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے