ایف آئی اے خواتین کی شکایات کو خاطر میں نہیں لاتا
عفت حسن رضوی
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کا سائبر کرائم سرکل اگر چہ ملکی سائبر اسپیس میں ہونے والے جرائم کی روک تھام کے لیے خاصا متحرک نظر آتا ہے، تاہم آن لائن ہراسگی کا شکار ہونے والی خواتین کی اکثریت کو شکایت ہے کہ یہ ایجنسی ان کی شکایات کو یا تو سنجیدہ نہیں لیتی یا پھر انہیں ضابطے کی کارروائی میں الجھا کر فائل کو دھول مٹی میں دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اسلام آباد میں ڈیجیٹل رائٹس فاونڈیشن کے زیر اہتمام ڈیجیٹل سیفٹی کے حوالے سے مذاکرہ منعقد کیا گیا ۔ ڈی آر ایف کی نمائندہ سیرت خان کا کہنا تھا کہ ان کے ادارے کی جانب سے بنائی گئی ہیلپ لائن پر ملنے والے شکایات اکثر ان خواتین کی ہوتی ہیں جو کہ اپنے کیس میں ایف آئی اے کی عدم توجہی کے باعث پریشان ہوتی ہیں۔
سیرت خان کے مطابق ڈی آر ایف کی ہیلپ لائن کو ملنے والی کالز میں خواتین کی اکثریت کو شکایت ہے کہ ان کی تصاویر کا معیوب انداز میں استعمال کرکے انہیں ہراساں کیا گیا، تاہم مواد کو انٹرنیٹ سے ہٹانے کے لیے انہیں ایف آئی اے سے خاطر خواہ مدد نہ مل سکی۔
مذاکرے میں شریک ایک خاتون صحافی نے بتایا کہ ان کی دوست کو جنسی ہراسگی کا سامنا رہا، وہ انہیں لے کر جب ایف آئی اے کے دفتر میں شکایت کا اندراج کرانے گئیں تو ڈیوٹی افسر نے انہیں کہا کہ بہتر ہے اس معاملے میں درگزر کریں، گند میں ہاتھ ڈالیں گی تو اپنا منہ کالا ہوگا۔
ڈی آر ایف کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق کے مطابق تقریباً 90 فیصد سے زائد خواتین کو آن لائن اسپیس میں ان کے خاتون ہونے پر ہراساں کیا جاتاہے، یعنی ذومعنی جملوں، معیوب الفاظ اور بعض اوقات واضح طور پر بے ہودہ پیغامات دے کر ہراساں کرنا عام ہے، یہاں تک کہ خواتین کو ان کے اظہار خیال کے جواب میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے جیسی دھمکیاں بھی معمول ہے ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ عموماً بد تمیزی کرنے والے افراد جعلی سوشل میڈیا اکاونٹس ہینڈل کرتے ہیں۔
خیال رہے کہ اس وقت پاکستان میں بیک وقت مختلف ایجنسیاں اور ادارے سائبر سرگرمیوں کی نگرانی کررہے ہیں ۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی، فیڈرل انوسٹی گیشن اتھارٹی، پولیس اور سیف سٹی پراجیکٹ سوشل میڈیا سمیت تمام آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہیں تاہم یہ ادارے مل کر بھی خواتین کے لیے آن لائن اسپیس کو محفوظ بنانے میں اب تک ناکام رہے ہیں ۔

