متفرق خبریں

شاہد مسعود پر فرد جرم عائد نہ کی جا سکی

مارچ 6, 2019

شاہد مسعود پر فرد جرم عائد نہ کی جا سکی

کرپشن کے مقدمے میں پاکستان ٹیلی ویژن کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر شاہد مسعود پر چار ماہ اور ۱۲ سماعتوں کے بعد بھی فرد جرم عائد نہ کی جا سکی ۔

بدھ کو اسلام آباد کے اسپیشل جج سینٹرل کی عدالت میں شاہد مسعود کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے دائر کیے گئے کرپشن کے مقدمے کی سماعت مقرر تھی ۔

ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر اور تفتیشی افسر عدالت میں پیش ہوئے تاہم جج کامران بشارت مفتی کے رخصت پر ہونے کے باعث کارروائی نہ ہوسکی ۔

جج کی رخصت کے باعث مقدمے میں آئندہ سماعت کی تاریخ 18 مارچ مقرر کی گئی ہے ۔ گذشتہ سماعت 18 فروری کو ہوئی تھی مگر فرد جرم عائد نہ کی جا سکی تھی ۔

شاہد مسعود کے خلاف یہ مقدمہ سنہ 2010 سے زیر التوا ہے اور تاحال ان پر فرد جرم عائد نہیں کی جا سکی ۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں شاہد مسعود کو پانچ لاکھ کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کیا ہے ۔

یاد رہے کہ پی ٹی وی کے سابق ایم ڈی اور ٹی وی اینکر شاہد مسعود کو گذشتہ سال نومبر کے تیسرے ہفتے میں اسلام آباد ہائیکورٹ سے ضمانت خارج ہونے پر ایف آئی اے نے تحویل میں لیا تھا اور انہوں نے دو ماہ اڈیالہ جیل میں گزارے ۔

ڈاکٹر شاہد مسعود پر بطور ایم ڈی پی ٹی وی مبینہ طور پر 3 کروڑ 80 لاکھ روپے خوربرد کا الزام ہے ۔ شاہد مسعود پر الزام ہے کہ انہوں نے ایم ڈی پی ٹی وی کے عہدے پر فائز رہتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے میڈیا رائٹس حاصل کرنے کے لیے جعلی کمپنی سے معاہدہ کیا تھا، جس سے پی ٹی وی کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا تھا ۔

ایف آئی اے کے مطابق شاہد مسعود نے کرکٹ میچز دکھانے کے لیے کیٹرنگ کا بزنس کرنے والی کمپنی سے معاہدے کی منظوری دی اور اس مد میں جعلی کمپنی کو 3 کروڑ 70 لاکھ روپے کی ادائیگی کی گئی۔ استغاثہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کیس میں 2 شریک ملزمان کاشف ربانی اور روشن مصطفی اب تک مجموعی طور پر 2 کروڑ 9 لاکھ روپے واپس کر چکے ہیں ۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے