پاکستان پاکستان24

’افضل کوہستانی قتل مقدمہ فوجی عدالت میں‘

اپریل 1, 2019

’افضل کوہستانی قتل مقدمہ فوجی عدالت میں‘

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے سفارش کی ہے کہ لڑکیوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والے افضل کوہستانی کے قتل کا مقدمہ فوجی عدالت میں چلا کر ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔

کمیٹی کا یہ اجلاس چیئرمین سینیٹر جہانزیب جمالدینی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا ۔ فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں ایبٹ آباد میں محمد افضل کوہستانی کے قتل پر آئی جی خیبر بختونخواہ کی تفصیلی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا ۔

صحافی عابد علی کے مطابق افضل کوہستانی کے قتل کی تفصیلی رپورٹ کمیٹی کو فراہم کی گئی جس پر سول سوسائٹی کی نمائندہ ڈاکٹر فرزانہ باری نے کمیٹی کو قتل کے پس منظر اور مقتول کے خاندان کو پیش آنے والی مشکلات اور حالات پر سے آگاہ کیا ۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ یہ قتل 2012 میں ہونے والے 4 لڑکیوں کے غیرت کے نام پر ہوئے قتل سے جڑا ہے ۔ فرزانہ بانی نے بتایا ہے کہ مقتول افضل کوہستانی کے تین بھائی بھی 2012 کے بعد اب تک قتل کیے جا چکے ہیں ۔

کمیٹی نے گہرے رنج و افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کیس کو فوجی عدالت میں بھیجنے کی سفارش کی ۔ قتل کی تفتیش کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دینے کی بھی سفارش کی گئی ۔ کمیٹی نے افضل کوہستانی کو بروقت سیکورٹی نہ فراہم کرنے پر تشویش اظہار کیا اور مقتول افضل کوہستانی کے بھائیوں اور خاندان کو مکمل سیکورٹی فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی ۔

کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان ٹیلی ویژن کے ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی پر رپورٹ بھی پیش کی گئی اور چیئرمین SECP کی طرف سے کمپنیوں کے بورڈ کی پابندی بنانے کے حوالے سے معاملات کا جائزہ لیا گیا۔

سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے بورڈ ممبران میں خاتون ممبر کی عدم موجودگی کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ 46فیصد سے زیادہ کمپنیوں کے بورڈ ممبران میں خواتین کی نمائندگی موجود ہے جو کہ 2020کے آخر تک 93فیصد تک پہنچ جائیں گی جبکہ صرف 8 فیصد کمپنیاں جن کی تعداد41 ہے میں ابھی تک خواتین ممبرز کی عدم موجودگی دیکھی جا رہی ہے ۔ جس کی وجہ ان کمپنیوں کے بورڈ کی تشکیل نو کیلئے کرائے جانے والے الیکشن ہیں جو کہ 2018 میں بورڈ میں خواتین کی نمائندگی کو لازمی قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری ہونے سے پہلے ہوچکے تھے ۔ چونکہ وہ الیکشن اپنے مقررہ وقت پر قرار پائے جا سکتے ہیں لہذا ان کمپنیوں کو یہ رعایت دی گئی ہے کہ آنے والے وقت میں دوبارہ بورڈ کی تشکیل میں خواتین کی نمائندگی لازمی قرار دی جائے گی اس کے ساتھ ساتھ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کم از کم ایک خاتون ممبرہونا لازمی قرار دیا گیا ہے تاہم ایک سے زائد خواتین ممبر رکھنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے ۔

پی ٹی وی کے ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کی عدم ادائیگی کو زیر بحث لاتے ہوئے کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ مسئلہ ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کا نہیں بلکہ ملازمین کی اضافی مراعات کی ادائیگی کا ہے ۔

بتایا گیا کہ ادارہ پہلے ہی 6 ارب روپے کے خسارے سے دو چار ہے اور مزید ادئیگیوں میں تاخیر کی وجہ بھی فنڈز کی قلت ہے جس کیلئے ادارے کی جانب سے مالی معاونت کی درخواست کر دی گئی ہے ۔ جس پر ادارے نے وزار ت خزانہ کو بزنس پلان بنا کے دینا ہے تاکہ بروقت ادائیگیوں کیلئے فنڈز مہیا کیے جا سکیں ۔

کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرزکامران مائیکل ، کشیو بائی ، پروفیسر ڈاکٹر مہر تاج روغانی ، ثنا ء جمالی ، عثمان خان کاکڑ ، ہدایت اللہ اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کے علاوہ سیکرٹری وزارت اطلاعات و نشریات ،سینئر جوائنٹ سیکرٹر ی وزارت خزانہ ، جوائنٹ سیکرٹری وزارت داخلہ ،ڈی آئی جی ہزارہ ڈویژن ، ڈی پی او ایبٹ آباد ، ایم ڈی پی ٹی وی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے