پاکستان پاکستان24

نیوزی لینڈ سے سیکھیں، جسٹس اطہر من اللہ

اپریل 2, 2019

نیوزی لینڈ سے سیکھیں، جسٹس اطہر من اللہ

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ہندو لڑکیوں کو مبینہ اغوا کے بعد مسلمان بنانے کے مقدمے کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت کے نمائندے کی لاعلمی پر برہمی کا اظہار کیا ہے ۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وفاق کے نمائندے سے کہا کہ نیوزی لینڈ کی حکومت سے ہی کچھ سیکھ لیں کہ اقلیتوں کا تحفظ کیسے کیا جاتا ہے ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس کیس میں اس طرح کا کوئی وے فارورڈ ہو کہ جس پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے، ایک رپورٹ مجھے موصول ہوئی، جسے میں ڈسکلوز نہیں کروں گا ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کرے گی، اگر وفاقی حکومت آجاتی کہ یہ اصل ایشو ہے، مگر دونوں حکومتوں کی جانب سے کچھ نہیں کیا گیا ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ایشو یہ ہے کہ زبردستی تو اسلام قبول نہیں کرایا، دوسرا ایشو یہ ہے کہ کم عمر تو نہیں، اس کا کیا لائحہ عمل ہوگا ۔

وکیل نے کہا کہ میڈیکل رپورٹ میں عمر کا تعین ہوگیا ہے ۔

عدالت نے انکوائری کمیٹی میں تقی عثمانی کو شامل کرنے سے متعلق درخواست گزار کے وکلاء کی استدعامنظور کی ۔

عدالت نے قرار دیا کہ انکوائری کمیٹی میں شیریں مزاری، تقی عثمانی، خاور رحمان اور ڈاکٹر مہدی حسن شامل ہوں گے ۔

عدالت نے وزارت داخلہ کو کمیشن میں شامل شخصیات کو اکٹھا کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 11 اپریل تک ملتوی کر دی ۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے