پاکستان پاکستان24

’چرسیوں نے بلدیہ فیکٹری کو آگ لگائی‘

اپریل 2, 2019

’چرسیوں نے بلدیہ فیکٹری کو آگ لگائی‘

پاکستان کے گنجان آباد صنعتی شہر کراچی میں ملکی تاریخ کی بدترین آتشزدگی کے بارے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ’بلدیہ فیکٹری میں آگ لگانے والے متحدہ قومی موومنٹ کے چرسی تھے۔‘

ستمبر سنہ 2012 میں کراچی کی بلدیہ فیکٹری میں آگ لگنے سے 259 افراد جھلس کر ہلاک ہوگئے تھے۔ اس سانحے کے بارے میں پہلے دن سے ہی یہ باتیں گردش میں تھیں کہ ’آگ جان بوجھ کر لگائی گئی ہے اس میں ایم کیو ایم کے سرکش عناصر ملوث تھے جو فیکٹری مالک سے بھتہ نہ ملنے پر اسے سبق سکھانا چاہتے تھے۔‘

کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں منگل کو ایک گواہ ارشد احمد نے بیان قلمبند کرتے ہوئے بتایا کہ ’فیکٹری کو آگ لگانے نے قبل ملزمان نے چرس پی اور پھر کیمیکل کا چھڑکاؤ کرکے دیا سلائی پھینکی۔‘

کراچی کے بلدیہ ٹاؤن علاقے میں گارمنٹس کے کارخانے علی انٹرپرائزز میں لگی آگ کو ابتدائی طور پر تخریب کاری قرار دیا گیا تھا ۔ اس وقت متحدہ قومی موومنٹ اقتدار میں تھی ۔

آتشزدگی کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی مشترکہ تفتیشی ٹیم نے بعد ازاں اسے تخریب کاری قرار دیا اوراپنی رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا کہ فیکٹری میں آگ لگائی گئی تھی اور اس کی وجہ مالک کا بدمعاش عناصر کو بھتہ نہ دینا تھا ۔

گواہ ارشد نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کو اپنے بیان میں کہا کہ وہ فیکٹری کی پہلی منزل پر کام کرتا تھا اور اس کے سامنے ملزم زبیر چریا نے کیمیکل چھڑک کر آگ لگائی۔

گواہ کے بیان کے مطابق زیبر چریا اور اس کے ساتھیوں نے آگ لگانے سے قبل فیکٹری کی کینٹین میں بیٹھ کر چرس پی ۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے