پاکستان پاکستان24

اب تو ہوا پر ٹیکس لگنا باقی ہے، چیف جسٹس

اپریل 24, 2019

اب تو ہوا پر ٹیکس لگنا باقی ہے، چیف جسٹس

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے سیلولر فون سروس پر ٹیکس کے خاتمے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے ۔

بدھ کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں بنچ نے فیصلے کے خلاف دائر نظر ثانی درخواستوں کی تفصیلی سماعت کے بعد ٹیکس خاتمے کا فیصلہ واپس لینے کا حکم جاری کیا ۔

دوران سماعت ایک موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کئی اشیا پر ٹیکس لگ چکے، اب تو ہوا پر ٹیکس لگنا باقی ہے۔

کیس کی سماعت میں حکومت کی جانب سے اٹارنی جنرل پیش ہوئے اور ایک بار پھرعدالتی دائرہ اختیار پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ جسے ٹیکس استثنی چاہیے متعلقہ کمشنر سے رجوع کرے، ٹیکس کے نفاذ پر ازخودنوٹس کی مثال نہیں ملتی، ٹیکسز پر حکم امتناع کے باعث حکومت اپنی آمدن کے بڑے حصے سے محروم ہے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ہزاروں روپے وکیل کو دینے پر لوگ ٹیکس دینے کو ترجیح دیتے ہیں، لاکھوں لوگوں سے ٹیکس لیا جا رہا تھا جن پر ٹیکس لاگو نہیں ہوتا، ٹی وی لائسنس کا ٹیکس بھی ہر شہری سے لیا جاتا ہے، ہر ٹی وی دیکھنے والے پر اِنکم ٹیکس لاگو نہیں ہوتا لیکن وہ ٹیکس دیتا ہے۔

چیف جسٹس نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں مشرقی پاکستان کے لیے فنڈز اکھٹے کرنے کے نام پر سیلاب ٹیکس نافذ ہوا تھا، مشرقی پاکستان الگ ہوگیا لیکن اس کے 20 سال بعد بھی فلڈ ٹیکس 90 کی دہائی تک لیا جاتا رہا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پانی اور فون سے باتیں کرنے پر تو ٹیکس لگ چکا، اب ہوا پر ٹیکس لگنا باقی ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جو ٹیکس کے اہل نہیں ان سے پیسہ لینا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کچھ لوگوں سے ٹیکس دائرے میں نہ آنے کے باوجود ٹیکس لینا اس کیس کی بنیاد بنا۔

سرکاری وکیل نے کہا کہ یہ ازخود نوٹس سوشل میڈیا کی خبروں پر لیا گیا جو زیادہ تر جعلی ہوتی ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نوٹس لینے کے بعد پانچ ججوں نے مقدمے کو سنا ۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ سوشل میڈیا کی شکایت پر ڈی جی ایچ آر نے نوٹ لکھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پانچ ججز کا حکمنامہ آ چکا اب یہ باتیں کرنا بے فائدہ ہے ۔

سپریم کورٹ نے از خود نوٹس نمٹاتے ہوئے موبائل فون کارڈز پر تمام ٹیکسز بحال کردیے اور حکم امتناع ختم کرنے کا آرڈر جاری کیا۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے مختصر حکم نامہ پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ ازخود نوٹس کے تحت ٹیکس معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی ۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے