پاکستان پاکستان24

”حکومت نے نیب کے پر کاٹ دیے“

جنوری 15, 2020

”حکومت نے نیب کے پر کاٹ دیے“

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ عدالت احتساب بیورو (نیب) کو پلی بارگین سے روک چکی ہے۔

نیب آرڈیننس کی شق 25 اے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے حکومت کو نیا نیب قانون لانے کے لیے تین ماہ کی مہلت دے دی اور کہا کہ توقع ہے حکام نیب قانون سے متعلق مسئلے کو حل کرلیں گے۔

بدھ کو چیف جسٹس نے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ جب تک پارلیمنٹ قانون سازی نہیں کر لیتی یہ اختیار استعمال نہیں ہو گا۔ حکومت نیب قانون کے معاملے کو زیادہ طول نہ دے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ نیب قوانین میں ترامیم پارلیمنٹ کا کام ہے۔ سپریم کورٹ نے نیب قانون کی کسی شق کو غیر آئینی قرار دیا تو نیب فارغ کر ہو جائے گی، کیا حکومت چاہتی ہے کہ نیب کے قانون کو فارغ کر دیں۔

درخواست گزار اسد کھرل نے کہا کہ حکومت نے خود نیب آرڈیننس لا کر نیب کے پر کاٹ دیے ہیں۔

”کسٹم میں چھ ماہ میں کیس کا فیصلہ تو جائے گا، نیب میں تو دس دس سال کیس پڑے رہتے ہیں۔“

عدالت نے قرار دیا کہ نیب قانون کے حوالے سے مناسب قانون پارلیمنٹ سے منظور ہوجائے گا۔ عدالتی آرڈر میں لکھا گیا کہ اٹارنی جنرل کے مطابق فاروق ایچ نائیک نیب قانون میں ترمیم کا بل پارلیمنٹ میں پیش کرچکے ہیں۔ اٹارنی جنرل کے مطابق حکومت نیب قانون میں ترمیم کیلئے تمام سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ تین ماہ میں مسئلہ حل نہ ہوا تو عدالت قانون اور میرٹ کو دیکھتے ہوئے کیس کا فیصلہ کرے گی۔

مقدمے کے آغاز پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا 25 اے کے معاملے پر ترمیم ہوگئی ہے، کیا یہ معاملہ اب ختم ہوگیا ہے، چیف جسٹس

جسٹس اعجاز الاحسن نے پوچھا کہ نیب آرڈیننس کا سیکشن 25 اے ختم ہوا یا اس میں ترمیم ہوئی؟

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں میرا نیب آرڈیننس سے متعلق پرائیویٹ ممبر بل موجود ہے، سینیٹر فاروق ایچ نائیک

وکیل فاروق نائیک نے کہا کہ سینیٹ کمیٹی سے منظوری کے بعد معاملہ ایوان میں جائے گا، بل کے مطابق نیب کے آرڈیننس 25 اے کو مکمل طور پر ختم کیا جارہا۔ درخواست گزار اسد کھرل نے بتایا کہ سنہ 2016 سے یہ کیس عدالت میں زیر سماعت ہے، پندرہ تاریخیں ہوچکی ہیں معاملہ جوں کا توں ہے۔

23 مئی 2019 کو آخری عدالتی حکم آیا تھا، اسر کھرل

کیا آپ اس معاملے پر بحث کرنا چاہتے ہیں، چیف جسٹس

ہم تو معاملہ نمٹانے لگے ہیں لیکن اگر آپ نے بحث کرنی ہے تو نیب آرڈیننس کے سیکشن 25 اے کو آئین سے متصادم ثابت کریں، کیا آپ کا موقف ہے کہ رضاکارانہ رقم کی واپسی کرنے والا شخص اپنا جرم بھی تسلیم کرے، کیا رضاکارانہ طور پر رقم واپس کرنے والے شخص کو سزا یافتہ تصور کیا جائے، کیا نیب آرڈیننس کے سیکشن 25 اے سے اب بھی کوئی مستفید ہورہا ہے، چیف جسٹس

عدالتی حکم امتناعی کے باعث سیکشن 25 اے غیر فعال ہے، حکومت نیا نیب آرڈیننس لے آئی ہے، اسد کھرل

نیب کے بہت سے قوانین ہیں آپ کا مقدمہ 25 سے سے متعلق ہے، اس حوالے سے بل حکومت کا نہیں بلکہ فاروق ایچ نائیک کا ہے، جسٹس اعجازالاحسن

کھرل صاحب یہ پرائیویٹ ممبر بل ہے، چیف جسٹس

موجودہ اٹارنی جنرل کی ہدایت ہے کہ اپنا موقف عدالت کے سامنے پیش کروں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان

موجودہ اٹارنی جنرل کا موقف گزشتہ اٹارنی جنرل سے مختلف ہے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل

نیب کا قانون ہے کہ پہلے انکوائری ہوگی پھر تحقیقات، 200 گواہ بنیں گے، اس طرح تو ملزم کے خلاف زندگی بھر کیس ختم نہیں ہوگا، کرپشن کی رقم واپس کرنے والوں کو نتائج کا سامنا بھی کرنا پڑے گا،لوگوں کا پیسہ ہڑپ کرلیا جاتا ہے، چیف جسٹس

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے