’این ایل سی ریکارڈ نیب کو دے‘
پاکستان میں پارلیمنٹ کی پبلک اکاونٹس کی ذیلی کمیٹی نے فوج کے ادارے نیشنل لاجسٹکس سیل (این ایل سی) کو مالی بے ضابطگی کی تفتیش کے لیے ریکارڈ نیب کو فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت پبلک اکاونٹس کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں این ایل سی حکام نے بتایا کہ مالی بےضابتگی میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی جی ایچ کیو نے کی ہے اور اس معاملے جو میجر جنرل ملوث تھا، اس کو برطرف کرکے تمام مراعات بشمول پنشن اور رینک لے لیا گیا ہے۔
پبلک اکاونٹس کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں وزارت منصوبہ بندی کے آڈٹ رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔
این ایل سی کے 5387 ملین روپے کی سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کے معاملے پر لیگی رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ ایسی مالی ضابطگیوں کا معاملہ اگر پارلیمنٹرین کا ہوتا تو آج ایف آئی اے یا نیب کے پاس 90 دن کے ریمانڈ پر ہوتے جس پر این ایل سی حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ مالی بے ضابطگی میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کی گئی ہے ۔۔ مالی بےضابتگی میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی جی ایچ کیو نے کی ہے، اس معاملے جو میجر جنرل ملوث تھا، اس کو برطرف کرکے تمام مراعات بشمول پنشن اور رینک لے لیا گیا ہے۔“
کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ این ایل سی میں مالی بے ضابطگی سے متعلق تمام ریکارڈ نیب کو دیا جائے، سابق ڈی جی کے خلاف کاروائی الگ بات ہے ریکوری نہیں ہوئی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ تیس کروڑ روپے صرف بروکروں نے کمیشن لیا ان کے خلاف کیا کارروائی ہوئی۔۔ این ایل سی میں مالی بے ضابطگیوں میں ملوث سویلین کے خلاف کیا کاروائی ہوئی ۔۔جس پر ایاز صادق نے کہا کہ 2009 سے ریکارڈ مانگا جا رہا ہے ریکارڈ نہیں دیا جا رہا ہے۔ این ایل سی حکام نے کہا کہ این ایل سی میں مالی بے ضابطگیوں کا ریکارڈ جی ایچ کیو کے پاس ہے۔۔۔ خواجہ آصف بولے اس مالی بے ضابطگیوں میں ملوث سویلین افراد موجودہ حکومت میں بیٹھے ہیں۔کمیٹی نے این ایل سی کو ریکارڈ نیب کو دینے کی ہدایت کی۔

