پاکستان پاکستان24

’عدالت میں شیخ رشید کا کچا چٹھا کھل گیا‘

جنوری 28, 2020

’عدالت میں شیخ رشید کا کچا چٹھا کھل گیا‘

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے ریلوے کے وفاقی وزیر شیخ رشید احمد پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’منسٹر صاحب، بتائیں آپ کیا کر رہے ہیں، آپ کا سارا کچا چٹھا ہمارے سامنے ہے۔‘

چیف جسٹس نے کہا کہ ’آپ کی انتظامیہ سے ریلوے نہیں چلے گی، آتشزدگی کے واقعے سے متعلق بتائیں۔ اس طرح تو ہم ریلوے نہیں چلا سکتے، 70 آدمی جل کر مر گئےآپ نے کیا کیا۔ ‘

شیخ رشید نے کہا کہ اس پر انکوائری ہوئی ہے، بڑے لوگ اس انکوائری میں آئے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سب سے بڑے تو آپ ہیں۔ آپ کو تو استعفا دے دینا چاہیے تھا۔

شیخ رشید نے کراچی میں سرکلر ریلوے نہ چلائے جانے کی ذمہ داری منصوبہ بندی کی وزارت اور ساتھی وزیر اسد عمر پر ڈال دی جس پر عدالت نے ان کو بھی نوٹس جاری کر دیا۔

منگل کو ریلوے خسارہ کیس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی تو وزیر ریلوے شیخ رشید عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

شیخ رشید نے کہا کہ ایک گزارش ہے کہ ایم ایل ون 14 سال پہلے کی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹریک کا واحد حل ایم ایل ون ہے۔ 1860 کلومیٹر کا نیا ٹریک ایم ایل ون منصوبے کے تحت بنے گا، پلاننگ کمیشن نے ابھی تک ٹینڈر نہیں کیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ان کو نہیں معلوم ایم ایل ون منصوبہ کون سی جادوگری ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’شیخ صاحب آپ کا ادارہ سب سے نااہل ہے اس کو درست کریں، آپ سینیئر وزیر ہیں۔‘

چیف جسٹس نے کہا کہ ’ہمارے پاس ابھی تک اٹھارویں صدی کی ریل چل رہی ہے، آپ کے پاس سگنل، پٹری انجن نہیں ہیں، ریلوے کی زمینوں میں قبضے کئے ہوئے ہیں۔ کراچی سے پشاور تک ریلوے کی زمینوں پر قبضہ ہے۔‘

سپریم کورٹ نے ریلوے کو خسارے سے نکال کر منافع بخش بنانے کا بزنس پلان طلب کیا اور کہا کہ بزنس پلان سے انحراف پر توہین عدالت کی کارروائی ہوگی۔

عدالت نے کراچی میں سرکلر ریلوے کی زمین دو ہفتوں میں خالی کرانے کا بھی حکم دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ زمین جن لوگوں سے واگزار کرائی جائے ان کی آبادکاری بھی کی جائے۔

حکم نامے میں سرکلر ریلوے آپریشن کرنے کے لیے حکومت سندھ کو تعاون کی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ عدالتی احکامات کی حکم عدولی پر سرکاری افسران کے خلاف کارروائی ہوگی۔

سپریم کورٹ میں ریلوے خسارہ کیس کی سماعت 12 فروری تک ملتوی کر دی گئی۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے