پاکستان پاکستان24

جسٹس فائز کیس میں اٹارنی جنرل سے سوال

فروری 3, 2020

جسٹس فائز کیس میں اٹارنی جنرل سے سوال

پاکستان کی سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی اہلیہ کے ایف بی آر میں پیش ہونے کی رپورٹ جمع کرائی ہے۔

دس رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطابندیال نے کہا ہے کہ پہلا نکتہ یہ ہے کہ جج کے خلاف انکوائری کا اختیار ایسٹ ریکوری یونٹ کو کس نے دیا، کس قانون کے تحت حکومتی حکام نے ریفرنس کو پبلک کیا؟ اٹارنی جنرل ! ان دونوں قانونی نکات کے جواب بہت اہم ہیں۔

وکیل درخواستگزار نے کہا کہ صدرمملکت کوسیاسی وابستگی سے بالاتر اور غیر جانبدار ہونا چاہئے، فیصلوں پر ججز کو ہدف تنقید بنایا جاسکتا ہے، بدنیتی سے دائرریفرنس کے بھی نتائج ہیں۔

اٹارنی جنرل نے جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی اہلیہ سے متعلق رپورٹ جمع کراتے ہوئے بتایا کہ جسٹس قاضی فائزکی اہلیہ کہتی ہیں کہ گوشوارے کراچی میں فائل کررہی ہیں اور جب آمدن قابل ٹیکس نہیں رہی تب ریٹرن فائل نہیں کیے۔

”جسٹس قاضی کی اہلیہ نے اسلام آباد سے ریکارڈ کراچی منتقل کرنے کی درخواست کی، مسزفائزعیسیٰ نے2012 ،2013 میں آن لائن ریٹرن فائل کئے۔“

اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایف بی آر کے مطابق مسزفائزعیسیٰ کو 2015 کے بعد ریٹرن نہ جمع کروانے پر نوٹس کئے، مسزفائز عیسیٰ کے ریٹرن کا ریکارڈ کراچی بھجوادیا ہے، مسزفائز عیسیٰ کو بھی ایف بی آر کی رپورٹ سے آگاہ کر دیا ہے۔

جسٹس عمر عطابندیال نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل آپ کب دلائل دیں گے؟

اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ مجھے مقدمے کی تیاری کیلئے وقت دیا جائے، عدالت کے ہر سوال کا جواب دوں گا۔جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ پہلا نکتہ یہ ہے کہ جج کیخلاف انکوائری کااختیار ایسٹ ریکوری یونٹ کو کس نے دیا، کس قانون کے تحت حکومتی حکام نے ریفرنس کو پبلک کیا، اٹارنی جنرل ! ان دونوں قانونی نکات کے جواب بہت اہم ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے