کالم

لیڈر بمقابلہ مینیجر

جنوری 1, 2024 3 min

لیڈر بمقابلہ مینیجر

Reading Time: 3 minutes

ایم بی اے میں ایک موضوع پڑھایا جاتا ہے لیڈر بمقابلہ مینیجر۔
اپنے سیاستدانوں کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ ان میں سے کسی میں لیڈر شپ کی کوئی کوالٹی پائی بھی جاتی ہے یا یہ سب مینیجر ہیں؟

لیڈر شپ کی ایک بنیادی خصوصیت لمبے عرصے کی سوچ ہوتی ہے مثلاً مودی کا نوٹ بندی کا فیصلہ شارٹ ٹرم میں ڈیزاسٹرس لیکن لانگ ٹرم میں کارپوریٹ ورلڈ کو بھارت کی طرف راغب کرنے کی کوشش تھا اور بالاخر قوم نے تسلیم کیا کہ یہ درست فیصلہ تھا حالانکہ اس وقت مودی کو سارا بھارت گالیاں دے رہا تھا۔

نواز شریف،زرداری کے پاس ایک مظلومیت کارڈ تو موجود ہے کہ ان کو اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ دھرنوں اور افتخار چوہدری بحالی ٹاٸپ تحریکوں سے لانگ ٹرم میں سوچنے کا لیوریج نہیں دیا لیکن عمران خان اس معاملے میں بدترین ریکارڈ کے حامل ہیں،پاکستان کی تاریخ میں دو ہی لوگوں کو فوج پر لیوریج حاصل رہا ہے اور وہ دو لوگ تھے بھٹو اور عمران۔

جب عمران خان کو دس سال کے لٸے انسٹال کیا گیا تو تمام سیکٹر کمانڈرز کی ڈیوٹیاں لگیں کہ وہ بیوروکریسی سے لے کر الیکٹ ایبلز تک کو سمجھا دیں کہ عمران دس سال اس قوم کے سینے پر مونگ دلیں گے،باجوہ نے زرداری سے مذاکرات کرکے اسے آن بورڈ لیا اور اسے مقدمات میں ریلیف دے کر عمران مخالف تحریک سے باز رہنے پر آمادہ کیا،نواز شریف کے پلیٹلیٹس مینیج کرکے انہیں عمران کی ناک کے نیچے سے فرار کرویا،مریم کا ٹویٹر بند کروا کے تمام سیاسی سٹیک ہولڈرز سے (علاوہ مولانا فضل الرحمان)یہ بات طے کر لی کہ عمران کو کچھ نہیں کہا جاٸے گا،تمام ججز مینیج کیے،دس سال میں قاضی فائز کے متوقع دور کو نکالنے کے لیے جج خریدے اور جھوٹا مقدمہ بنایا۔

اب سوچیےایک ایسا ادارہ جس نے سینتالیس سے چوبیس تک صرف حکومتیں الٹانے کا کام کیا وہ ایک دس سال کی کانٹینیوٹی اور ایشورنس کے ساتھ عمران خان کو کام کا موقع دے رہی تھی۔
گویا عمران ان خطرات سے ماورا تھے جو ہر جمہوری حکومت کو درپیش تھے لیکن آپ ایک بھی لانگ ٹرم قدم یا پالیسی چینج نہیں دکھا سکتے۔

دو ہزارسترہ اٹھارہ میں ایف بی آر کے پاس پاکستان کے تقریباً ہر فرد کا کچھ نہ کچھ ڈیٹا موجود تھا،بیکن ہاٶس،ایل جی ایس،کراچی گرام،لمز،جی آئی کے میں جن بچوں کی فیسیں بھری جا رہی تھی ان کا ریکارڈ تھا،دبئی نے پاکستانیوں کی جائیدادکی تفاصیل دے دی تھی،تمام انٹرنیشنل فلائٹس پر بکنگ کروانے والوں کا ڈیٹا موجود تھا،پورے پاکستان میں رجسٹرڈ گاڑیوں کا ریکارڈ موجود تھا،انڈسٹریل بجلی کنکشنز کی تفاصیل تھی،تاجروں کی مارکیٹس کے بل بجلی کا ڈیٹا موجود تھا،ڈی ایچ اے اور بحریہ کے علاوہ سب جائیدادوں کی تفصیل موجود تھی لیکن ٹیکس ٹو جی ڈی پی کم ہو رہا تھا،پاکستان کرپشن انڈیکس میں زرداری دور کو بھی مات دے رہا تھا،پی آٸی اے اور دیگر کارپوریشنز کا خسارہ بڑھ رہا تھا۔

آپ کسی مٹی کے مادھو کو کھیت میں کھڑا کر کے پرندوں کو تو ڈرا سکتے ہیں لیکن اس سے بچے جنوانے کا کام تو نہیں لے سکتے۔
میں عمران کو پاکستان کا سب سے ڈیزاسٹر سمجھتا ہوں لیکن
رکیے ذرا

نواز شریف پی آئی اے اور سٹیل مل کی نجکاری نہیں کر سکا،پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے سو ارب خسارے والے ادارے کو صوبے کے گلے فٹ نہ کر سکا جبکہ لا اینڈ آرڈر صوبے کے پاس تھا،حیدرآباد اور نواب شاہ کے اربوں روپے نقصان والی بجلی ڈسٹری بیوشن صوبے کو نہیں دے سکا حالانکہ صوبہ خود چوری کروا رہا تھا،بدمعاش تاجروں سے مفتاح کے تجویز کردہ چھ ہزار ماہانہ جیسے کمتر فگر کو نہ منوا سکا۔

زرداری اپنے بندوں کو پی آئی اے اور سٹیل مل میں سیٹل کروا کے ان کو حرام کھانے کا درس دینے کے ساتھ ساتھ ان کو پروٹیکٹ کرتا رہا۔
زراعت کو ٹیکس کرنے کے خلاف چٹان بنا رہا۔

اب آپ ہی بتائیں ان میں سے کس کو اپنا لیڈر مانوں؟ان لوگوں میں ایک بھی ہے جس نے لیڈر شپ دکھائی ہو؟
آج خسارے میں چلنے والے اداروں کی تفصیل پڑھ کر دل دکھ رہا ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے