پاکستان

بہت دیر ہو گئی‘، اے این پی کے اسٹیبلشمنٹ سے راستے الگ کرنے پر صحافیوں کے تبصرے

فروری 12, 2024 2 min

بہت دیر ہو گئی‘، اے این پی کے اسٹیبلشمنٹ سے راستے الگ کرنے پر صحافیوں کے تبصرے

Reading Time: 2 minutes

پاکستان کی پرانی اور معروف قوم پرست تحریک اسے سیاسی جماعت کی صورت اختیار کرنے والی عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان کی اسٹیبلشمنٹ سے راستے الگ کرنے کے حوالے سے کی گئی پریس کانفرنس اس وقت سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے۔

اتوار کو انہوں نے یہ پریس کانفرنس عام انتخابات میں پارٹی کی بدترین شکست کے بعد کی۔

صحافی افتخار فردوس نے لکھا کہ انتہائی اہم پریس کانفرنس، عبدالولی خان کی سیاست کو خیر باد کہنا ان سارے صفحوں کو کھولنا ہے جن کو پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے کافی کوششوں کے بعد بند کیا تھا۔ اے ان پی کی سیاست کی اپیل عوامی حلقوں میں کبھی بھی پرو اسٹیبلشمنٹ ہونے کی وجہ سے نہیں رہی لیکن کیا اے این پی خود کو بدلنے کے لیے تیار ہے؟

قبل ازیں صحافی احسان اللہ محسود ٹیپو نے ایمل ولی خان کی پریس کانفرنس کا ایک ویڈیو کلپ شیئر کر کے لکھا تھا کہ ہم مزید ایسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ایک قدم بھی جانے کے لئے تیار نہیں۔‘

ایمل ولی خان کی یہ بات پشتو زبان میں کی گئی تھی۔

اس پر روزنامہ ڈان سے وابستہ سینیئر صحافی اسماعیل خان نے لکھا کہ ’میرا خیال ہے کہ وہ ابھی تک سمجھ نہیں پا رہے۔ میری ولی باغ میں ایمل ولی سے گفتگو ہوئی۔ اس حوالے سے میں نے ڈان میں لکھا۔ ایمل ولی سمجھتے ہیں کہ ان کی بقا اپنی جماعت کے بنیادی فلسفے سے جڑے رہنے سے ہے۔ میرا خیال ہے کہ ان کو اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے۔

افتخار فردوس نے جواب میں اسماعیل خان کو لکھا کہ ’میں نے وہ تحریر پڑھی جو آپ نے لکھی تھی، لیکن لگتا ہے کہ اے این پی کے پاس اب کوئی مربوط قوت نہیں ہے اور پارٹی کے بہت سے بڑے رہنما خود ایمل ولی کو ہی مسئلہ سمجھتے ہیں۔ قیادت کا بحران پیدا ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پارٹی نے جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے سے انکار کر دیا ہے کہ ٹیلنٹ کے بجائے نسب پر اس کا انحصار پارٹی کو پہلے سے کہیں زیادہ مہنگا پڑا ہے۔ ہمارے ارد گرد کی دنیا بدل گئی ہے اور پرانے نظریات اور نعرے شاذ و نادر ہی معنی رکھتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اے این پی آگے نہیں بڑھی۔‘

صحافی عقیل یوسفزئی نے لکھا کہ ’دوستو، بہت بہت خطرناک صورتحال ہے۔‘

صحافی علی ارقم نے اس پر تبصرہ کیا کہ ’سنہ 2018 میں ہارنے کے بعد بھی کچھ ایسا ہی ردعمل آیا تھا بلکہ جلسے میں نعرے بھی لگے تھے، لیکن بتدریج معاملہ اسی ڈگر پر آ گیا، ویسے ہی 2013 میں کمیٹی بھی بھی بنی تھی جس نے کچھ تجاویز بھی مرتب کیں، اس کے نتیجے میں نیشنل یوتھ آرگنائزیشن بنی، جہاں سے محسن داوڑ ابھرے اور اب الگ دھڑے کے چیئرمین ہیں۔‘

اسلام آباد میں عوامی ورکرز پارٹی سے وابستہ معروف دانشور عصمت شاہجہان نے اس پر تبصرہ کیا کہ ’اب بہت دیر ہو گئی ہے۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے