متنازع پیکا قانون میں ترمیم کے خلاف درخواستیں، ہائیکورٹ میں سال بعد سماعت
پیکا کے متنازع قانون میں ترمیم کے خلاف صحافیوں اور صحافتی تنظیموں کی درخواستوں پر سماعت کے دوران اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ قانون پر عملدرآمد کو معطل نہیں کیا جا سکتا۔
پیر کو جسٹس انعام امین منہاس نے تمام درخواستوں کو یکجا کر کے سماعت کی۔
سینیئر صحافی اور اینکر حامد میر، پی ایف یو جے اور اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے پیکا ایکٹ کو چیلنج کر رکھا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے وکیل میاں سمیع الدین نے دلائل دیے اور متنازع پیکا ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے شامل کی گئی شقیں پڑھ کر سنائیں۔
وکیل کا کہنا تھا کہ جو اختیارات عدلیہ کے پاس ہونے چاہییں وہ ایگزیکٹيو (انتظامیہ) کو دے دے دیے گئے۔ اس پر جوڈیشل ٹریبونلز ہونا چاہییں جن کے ججز کا تقرر چیف جسٹس کی مشاورت سے کیا جائے۔
وکیل کے مطابق سیکشن ٹو سی جعلی اور جھوٹی سوشل میڈیا پوسٹس پر پابندی سے متعلق ہے۔
جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ فیک انفارمیشن کے متعلق فیصلہ کون کرے گا کہ معلومات غلط اور جھوٹی ہیں؟ یہ بتائیں اور سمجھائیں کہ فیک نیوز کا تعین کیسے کرنا ہے؟
جسٹس انعام امین منہاس نے سوال کیا کہ فیک نیوز پر پروسیڈنگ کیسے شروع ہو گی؟
وکیل نے کہا کہ شکایت درج کرنے کا ایک نیا طریقہ بنایا گیا ہے کہ متاثرہ فریق کے علاوہ تھرڈ پارٹی بھی شکایت درج کرا سکتی ہے، اس طرح کوئی پراکسی بھی شکایت دائر کر سکے گا اور اس قانون کا غلط استعمال ہو گا۔
وکیل میاں سمیع الدین نے کہا کہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ فیک انفارمیشن سے کیا نقصان پہنچ رہا ہے، فیک انفارمیشن بعض اوقات ایک غلطی بھی ہو سکتی ہے جس کا کسی کو نقصان نہ ہو۔
راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (بٹ گروپ) کے صدر آصف بشیر چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ پی ایف یو جے (بٹ گروپ) نے پچھلے سال چھ فروری کو یہ کیس دائر کیا تھا، کیس زیر التوا ہے اور حکمِ امتناع نہیں ملا اس دوران دو درجن سے زائد صحافیوں پر مقدمات درج کیے گئے۔
اُن کا کہنا تھا کہ سڑک کی جلد توڑ پھوڑ اور تعمیر میں ناقص مٹیریل کے استعمال کی خبر دینے والے پر بھی مقدمہ درج کیا گیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ یہ قانون سازی ہے، اس کو حکم امتناع سے معطل نہیں کیا جا سکتا، کیس کو سن کر فیصلہ کریں گے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت چھ مارچ تک ملتوی کر دی۔

