پاکستان

صحافی خُرم اقبال کی رہائی، پنجاب حکومت کو بڑی سُبکی کا سامنا

فروری 14, 2026

صحافی خُرم اقبال کی رہائی، پنجاب حکومت کو بڑی سُبکی کا سامنا

صحافی خُرم اقبال کو لاہور میں اُن کی بہن کے گھر سے اُٹھائے جانے کے آٹھ گھنٹے بعد جمعے کی شب چھوڑ دیا گیا۔

خرم اقبال سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کافی سرگرم ہیں اور گزشتہ روز اُن کی وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی زبان پھسلنے کی ویڈیو پوسٹ وائرل ہوئی تھی۔

اس پوسٹ پر ن لیگ کے سوشل میڈیا ٹرولز نے اُن کے خلاف مہم شروع کی تھی۔

آٹھ گھنٹے تک سوشل میڈیا اور ہم نیوز کی ٹیم کی جانب سے خرم اقبال کی بازیابی کے لئے مہم چلائے جانے کے بعد پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے جمعے کی شام ایکس پر لکھا کہ ”خرم اقبال لاپتا نہیں ہے، پیکا کے تحت فیک ویڈیو بنا کر ٹویٹ کر کے پھیلانے کے جرم میں زیرحراست ہے، یہ حرکت کون سی صحافتی اقدار ہے؟اور انک کی ٹائم لائن چیک کریں وہ ایک پراپیگنڈا سیل کے ممبر تو ضرور ثابت ہوتے ہیں، صحافی تو نہیں کہہ سکتے، آپ سمجھتی ہیں یہ ملک جنگل بنا رہے جو جس کا دل کر رہا ہے وہ کرتا رہے تو یہ تو ممکن نہیں نہ ہی کسی بھی دنیا کے ملک میں اس کی اجازت ہے۔“

انہوں نے یہ بیان صحافی عاصمہ شیرازی کی ایک ٹویٹ پر دیا جس میں سینیئر اینکر نے لکھا تھا کہ ‏”خرم اقبال کو لاپتہ کرنے کی ذمہ دار پنجاب حکومت ہے، یہ کروفر آمریتوں میں بھی نہیں دیکھا۔ کل تک آپ پیکا کے خلاف ہمارے ساتھ سراپا احتجاج تھے، آج آپ اُس قانون سے بھی بالاتر ہو کر صحافی لاپتہ کر رہے ہیں۔ عظمیٰ بخاری صاحبہ، مریم اورنگزیب صاحبہ اور مریم نواز صاحبہ آپ قانون ہاتھ میں نہ لیں۔“

قبل ازیں صحافی خرم اقبال کے اہلخانہ بتایا تھا کہ اُن کو لاہور سے سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد ساتھ لے گئے۔

اسلام آباد میں ہم نیوز سے وابستہ صحافی خرم اقبال کے اہلخانہ کے بیان کے بعد اُن کے نیوز چینل نے اپنی خبر میں کہا تھا کہ پروڈیوسر خُرم اقبال کو اُٹھایا گیا ہے۔

ہم نیوز کی خبر کے مطابق خرم اقبال اپنی فیملی کے ہمراہ بسنت منانے لاہور گئے تھے جہاں وہ اپنی بہن کے گھر مقیم تھے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے