پختونخوا حکومت سڑکیں نہیں کھولے گی تو وفاق کو ایکشن لینا پڑے گا: وزیر قانون
پاکستان کے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ موٹر ویز اور جی ٹی روڈ کی بندش کو غیرآئینی اقدام ہے۔
پیر کی صُبح ایک تقریب سے خطاب میں اُن کا کہنا تھا کہ اگر خیبر پختونخوا حکومت نے سڑکیں نہ کھولیں تو پھر وفاق کو آئین پر عمل کرتے ہوئے ایکشن لینا پڑے گا پھر کسی کو برا نہ لگے۔
وزیر قانون نے یہ بھی بتایا کہ اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی 6 /6 ہے جبکہ دوسری آنکھ کی بینائی چشمہ لگا کر 70 فیصد ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ عمران خان کی بینائی سے متعلق جو تازہ ترین رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی جانی تھی، اس کے بارے میں انھوں نے اٹارنی جنرل اور متعلقہ افراد سے بات کی۔
وزیر قانون کے مطابق ’متعلقہ افراد نے بتایا ہے کہ عمران خان نظر والی عینک اگر استعمال کر رہے ہیں تو تقریباً 70 فیصد ایک آنکھ ٹھیک ہے اور دوسری آنکھ کی نظر بالکل ٹھیک ہے۔ تو ایسی پریشانی کی بات نہیں۔‘
انھوں نے تحریک انصاف کے احتجاج کی وجہ سے راستوں کی بندش پر بھی بات کی اور کہا کہ آئین کا آرٹیکل 15 شہریوں کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دیتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’آپ پہلی دفعہ دیکھ رہے ہیں کہ شہریوں کے حقوق سلب کرنے کے لیے حکومت سرکاری سطح پر اقدامات کر رہی ہے۔‘
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ انھیں توقع ہے عمران خان کی بینائی سے متعلق رپورٹ دیکھنے کے بعد تحریک انصاف راستے کھول دے گی، ورنہ پھر وفاق کو ایکشن لینا پڑے گا۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ سرکاری سطح پر موٹرویز اور جی ٹی روڈ کو بند کرنا غیرآئینی اقدام ہے۔ اگر صوبائی حکومت نے آئین و قانون کی پاسداری نہ کی تو ’اسے درست کرنے کا طریقہ بھی آئین کے اندر ہی موجود ہے، پھر اس صورت میں شکوہ نہیں ہونا چاہیے۔‘

