عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ اور نورین خان کی پریس کانفرنس
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ ’آج ہمیں چکری پر روک لیا گیا، چار، سوا چار بجے تک ہمیں روکا گیا، ہمارا آج پریس کانفرنس کرنا ضروری تھا، بانی چئیرمین کی جو حالت بنی ہوئی ہے اس پر بات کرنی تھی، بشریٰ بی بی کے ذریعے ہمیں پیغام ملا کہ عمران خان کہہ رہے ہیں اُن کی آنکھ ٹھیک نہیں ہے، ڈاکٹر فیصل اور ڈاکٹر عاصم کو اُن تک رسائی دلوائی جائے۔‘
منگل کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں علمیہ خان کا کہنا تھا کہ ’وہ کہہ رہے ہیں کہ میرا بلڈ ٹیسٹ انہیں دکھایا جائے، میں کبھی کسی پر بات نہیں کرتی، ہمیں شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں علاج کی یقین دہائی کروائی گئی تھی۔ ہم نے ایک ڈاکٹر عاصم کا نام دیا اور فیملی ممبران کا نام دیا تھا، ڈاکٹر برکی جو ہمارے کزن ہیں ان کا نام دیا تو تب بھی ہمیں فون آیا۔ ہمیں فون کر کے بتایا گیا کہ ہمیں یہ ڈاکٹر قبول نہیں، کوئی اور نام بتائیں۔ ڈاکٹر برکی جن کا نام ہم نے دیا ان پر بھی اعتراض اٹھایا۔‘
علیمہ خان نے کہا کہ ’کیا آپ کا خیال ہے کہ ہمیں جیل پر اعتبار کرنا چاہیے، جب ہمیں سلمان صفدر نے تفصیلات بتائی تھیں ہم جیل گئے تھے، اگر عمران خان کو کھانسی بھی آئے تو ڈاکٹر عظمی فورا پیچھے پڑ جاتی ہیں، اگر ایک شخص خود کہہ رہے ہے تو سوچیں اس کی حالت کیا ہو گی، عمران خان نے کہا کہ وہ دو ہفتوں تک کہتے رہے کہ اُن کو نظر نہیں آ رہا۔‘
تحریک انصاف کے بانی چیئرمین کی ہمشیرہ نے کہا کہ ’سپرنٹنڈنٹ جیل سے پوچھا جائے کہ اتنے کیمرے لگے ہونے کے باوجود انہیں پتا نہیں چل رہا تھا کہ عمران خان کو نظر نہیں آرہا۔‘
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کہہ رہے ہیں مجرمانہ غفلت ہے جبکہ ہم کہہ رہے ہیں کہ یہ مجرمانہ عمل ہے۔ ڈاکٹرز نے کہا تھا کہ سب سے اچھی جگہ شفا انٹرنیشل ہسپٹل اسلام آباد ہے، بانی چئیرمین کے ذاتی ڈاکٹرز ساتھ ہوں اور فیملی ممبرز ہوں، ہمیں میسج دیا گیا کہ وہ تیار ہیں کہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں علاج کروا دیا جائے گا، وہاں یہ کنفوژن ہو گئی کہ راولپنڈی والا نہیں اسلام آباد والا۔ کہا گیا کہ کسی بہن کو بانی چئیرمین سے ملاقات نہیں کرنے دی جائے گی۔‘

