پولیس ایف آئی آرز میں مدعی و ملزمان کی ذات اور قبیلے نہ لکھے: سُپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں قرار دیا ہے کہ پولیس یقینی بنائے کہ کوئی بھی مقدمہ درج کراتے وقت شکایت کنندہ/مدعی، ملزمان، متاثرین یا گواہوں کے ناموں کے ساتھ اُن کی ذات، قبیلہ، برادری، حیثیت یا کسی بھی قسم کی معاشرتی درجہ بندی یا تضحیک آمیز الفاظ نہ لکھے جائیں۔
عدالت نے مزید کہا کہ اسی طرح گرفتاری کے میمو، ریکوری میمو، تفتیشی رپورٹس، چالان یا کسی بھی دوسرے سرکاری و عدالتی ریکارڈ میں ناموں کے ساتھ ایسا ذکر نہ کیا جائے۔
سپریم کورٹ نے صوبائی پولیس حکام اور اسلام آباد پولیس کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ایف آئی آر درج کرتے وقت یہ سب یقینی بنائے۔
عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں ایک فوجداری مقدمے میں یہ فیصلہ دیا۔
سپریم کورٹ نے متنبہ کیا کہ اس اُصول سے ہٹنا صرف اسی صورت میں جائز ہوگی جب تفتیشی افسر کسی اہم حقیقت یا جرم سے براہ راست جڑے شواہد سے متعلق وجوہات کی بنا پر کرے اور جو تحریری طور پر درج ہو کہ اس طرح کی شناخت کو ظاہر کرنا وہ کیوں ضروری سمجھتا ہے۔

