پاکستان

معصوم لڑکے کا بہیمانہ قتل، جنوبی وزیرستان میں شہریوں کا احتجاج

مارچ 6, 2026

معصوم لڑکے کا بہیمانہ قتل، جنوبی وزیرستان میں شہریوں کا احتجاج

خیبر پختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا کے قریب گاؤں تنائی میں 12 سالہ لڑکے کو پتھروں سے بہیمانہ تشدد کر کے قتل کر دیا گیا۔

پولیس سٹیشن وانا میں درج مقدمے کے مطابق مقتول کے والد معروف نے بتایا کہ کم عمر بیٹا سہ پہر چار بجے مویشی چرانے کے لیے گھر سے نکلا مگر شام تک واپس نہ آیا۔

پولیس سٹیشن وانا کے آپریٹر سیف الرحمان نے پاکستان24 کو بتایا کہ مقتول کا پوسٹ مارٹم مقامی ہسپتال میں مکمل کیے جانے کے بعد تدفین کر دی گئی ہے۔

درج کیے گئے مقدمے کے مطابق بدھ کی شام جب بکریاں قریبی پہاڑ سے گھر واپس آئیں تو 12 سالہ عمران کے بارے میں تشویش پیدا ہوئی۔

تنائی گاؤں کے رہائشیوں نے مقتول کے والد معروف اور اُن کے رشتہ داروں کے ہمراہ کم عمر گڈریے کی تلاش شروع کی۔ رات گزرنے کے باوجود کوئی کامیابی نہ ملی۔

ایف آئی آر کے مطابق مقتول کے والد نے بتایا کہ اگلے دن جمعرات کو دوپہر گیارہ بجے عمران کی لاش قریبی پہاڑی سے ملی۔

مدعی مقدمہ کے مطابق اُن کے بیٹے کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے جبکہ پتھر مار کر قتل کیا گیا تھا۔

پولیس کو اطلاع دیے جانے سے قبل ہی لاش کو سول ہسپتال وانا منتقل کیا گیا۔

ابتدا میں اہلخانہ کو مویشیوں کی فکر تھی، لیکن جب بچہ لاپتہ ہوا تو گاؤں میں تشویش اور بے چینی پیدا ہو گئی۔

مقتول عمران کے والد نے بتایا کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی یا جھگڑا نہیں۔

قتل کا یہ واقعہ علاقے میں شدید غم و غصے کا باعث بنا ہے۔ مقامی افراد نے احتجاج کیا اور مختصر وقت کے لیے دھرنا دیا۔

انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اس افسوسناک واقعے کا نوٹس لیا جائے، ملزمان کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ انصاف ہو سکے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے