پاکستان

پاکستان اور افغانستان کی جنگ روکنے کے لیے ثالثی کی چینی کوششیں تیز

مارچ 14, 2026

پاکستان اور افغانستان کی جنگ روکنے کے لیے ثالثی کی چینی کوششیں تیز

پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ پڑوسی ملک افغانستان کے دارالحکومت کابل، قندھار اور دیگر مقامات میں مجموعی طور پر 70 ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے گئے ہیں۔

افغان حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں بچوں سمیت چھ شہری مارے گئے جبکہ خواتین سمیت 12 زخمی ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ قندھار میں پاکستان کی بمباری سے ایئرپورٹ کے قریب نجی فضائی کمپنی کے تیل ڈپو میں آگ لگی۔

دوسری جانب کشیدگی میں کمی کے لیے چین دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی کی کوششیں کر رہا ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان ان دنوں کابل اور اسلام آباد کے درمیان متحرک دکھائے دیتے ہیں۔

افغانستان اور چین کی طرف سے ان ملاقاتوں کی پہلے ہی تصدیق کی جا چکی ہے۔ چند روز قبل چین کے کابل میں سفیر اور چین کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان نے افغان دارالحکومت میں افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کی۔

چین کی وزارت خارجہ نے ایک حالیہ بیان میں خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا ہے کہ ’چین کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان اس وقت دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کروانے کے لیے متحرک ہیں۔ جبکہ دونوں ممالک میں چین کے سفارتخانے دونوں فریقین کے ساتھ قریبی رابطہ رکھے ہوئے ہیں۔‘

روئٹرز کے مطابق بیجنگ نے یہ عندیہ دیا ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کے ذریعے جنگ بندی کروانے کے خواہاں ہیں۔ ’فوری طور پر ٹاسک یہ ہے کہ لڑائی کو پھیلنے سے روکا جائے اور فریقین کو جلد از جلد مذاکرات کی میز پر لایا جائے۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے