عالمی خبریں

کابل میں متعدد دھماکے، پاکستان پر بمباری کا الزام

مارچ 17, 2026

کابل میں متعدد دھماکے، پاکستان پر بمباری کا الزام

افغانستان میں حکام نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستانی جیٹ فائٹرز نے کابل میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے ایک سینٹر پر بمباری کی ہے جس میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

اس سے قبل افغانستان میں حکام نے شہریوں کو متنبہ کیا تھا کہ جو کوئی بھی فوجی تنصیبات، سیکورٹی مراکز اور فوج کی سرگرمیوں کی ویڈیو بناتا، تصاویر کھینچتا اور فیس بک اور ایکس پر اس کی معلومات شیئر کرتا ہے تو اسے قومی سلامتی کے خلاف جرم تصور کیا جائے گا۔

افغانستان میں طالبان حکومت کا دعویٰ ہے یہ حملہ منشیات کے عادی افراد کا علاج کرنے والے مرکز پر کیا گیا۔
جبکہ پاکستان نے اس کی تردید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ فضائی حملے میں کابل اور مشرقی افغان صوبے ننگرہار میں فوجی تنصیبات اور ’دہشت گردوں کے مراکز‘ کو نشانہ بنایا۔

افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان نے ایکس پر لکھا کہ ہسپتال کو پیر کے روز نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کچھ افراد ہلاک اور کچھ زخمی ہوئے۔

ہسپتال کے حکام کے مطابق وہاں تقریباً دو ہزار افراد زیرِ علاج تھے۔ افغان طالبان کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں دعوی کیا کہ ہلاکتوں کی تعداد 400 جبکہ 250 افراد زخمی ہیں۔

پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے کابل اور ننگرہار میں ’عسکری تنصیبات اور دہشت گردی کے ان مراکز کو نشانہ بنایا گیا جو افغانستان میں طالبان حکومت کی سرپرستی میں کام کر رہے ہیں۔‘

ایکس پر پوسٹ میں ان کا کہنا تھا: ’کابل میں دو مقامات پر تکنیکی معاونت کرنے والے انفراسٹرکچر اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کے مراکز کو تباہ کیا گیا۔ حملوں کے بعد ہونے والے دھماکے بھی یہی ظاہر کرتے ہیں کہ وہاں گولہ بارود ذخیرہ کیا گیا تھا۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے