رات کا ’نصائح نامہ‘ صبح ہوتے ڈیلیٹ کیوں، تجزیہ کار انیق ناجی پر ’بغضِ پیپلز پارٹی‘ کا الزام
لندن میں مقیم پاکستانی تجزیہ کار انیق ناجی ان دنوں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بدلتے ہوئے سیاسی رخ اور تند و تیز بیانات کی وجہ سے مرکزِ نگاہ ہیں۔ تاہم جمعے کی شب ان کی جانب سے کی گئی ایک غیرمعمولی پوسٹ اور پھر اسے حذف کر دینے کے عمل نے انٹرنیٹ صارفین کو طنز و مزاح اور تنقید کا بھرپور موقع فراہم کر دیا ہے۔
انیق ناجی پاکستان کے معروف تجزیہ کار اور سینیئر صحافی نذیر ناجی مرحوم کے بیٹے ہیں-
انیق ناجی کی وہ پوسٹ جس پر ہنگامہ برپا ہوا
رات گئے (تقریباً پونے تین بجے) انیق ناجی نے ایک طویل پوسٹ شیئر کی جس میں انہوں نے پیپلز پارٹی کی قیادت اور سابق صدر آصف علی زرداری کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ زرداری صاحب کو سیاست چھوڑ کر مزاروں پر جھاڑو دینی چاہیے یا دوسری شادی کر لینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اولاد بڑھاپے کا سہارا نہیں ہوتی اور نواز شریف کی مثال سامنے ہے۔
’ہوش و حواس‘ پر اٹھتے سوالات: طارق متین کا تبصرہ
انیق ناجی کی اس پوسٹ پر پہلا بڑا ردعمل معروف نیوز اینکر اور صحافی طارق متین کی جانب سے آیا۔ انہوں نے انیق ناجی کی پوسٹ کا سکرین شاٹ شیئر کیا اور لکھا:
’آصف زرداری شرمندہ کروائیں گے، مزار پہ جھاڑو دیں، سائیڈ لائن کر دیا گیا۔ دوسری شادی کر لیں… یہ سب رات تین بجے لکھنے کے بعد انیق ناجی صاحب نے اپنا ٹویٹ صبح ڈیلیٹ کر دیا۔‘
سوشل میڈیا صارفین اس ’رات تین بجے‘ کے وقت کا خاص طور پر ذکر کر رہے ہیں، جس سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ شاید یہ تحریر مکمل ہوش و حواس میں نہیں لکھی گئی تھی۔
پیپلز پارٹی کے حامی اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ آفتاب احمد گورائیہ نے انیق ناجی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے لکھا کہ مسٹر ناجی کو ایسی حالت میں موبائل سے دور رہنا چاہیے، ورنہ بعد میں ٹویٹ ڈیلیٹ کر کے روپوشی اختیار کرنا پڑتی ہے۔
انہوں نے مزید طنز کرتے ہوئے کہا ’وڈے ناجی صاحب (نذیر ناجی) بھی آخری عمر میں بغضِ پیپلز پارٹی سے تائب ہو گئے تھے اور آپ کے چچا مجیب الرحمان شامی کو بھی اب پیپلز پارٹی کے کام نظر آنے لگے ہیں۔ آپ بھی ٹھیک ہو جائیں گے، بس تھوڑا وقت لگے گا۔‘
بلاک کرنے کا سلسلہ اور ’ڈیلیٹ اینڈ رن‘
معاملہ صرف ٹویٹ ڈیلیٹ کرنے تک محدود نہیں رہا۔ آفتاب احمد گورائیہ نے تھوڑی دیر بعد ایک اور سکرین شاٹ شیئر کیا جس میں دکھایا گیا کہ انیق ناجی نے انہیں بلاک کر دیا ہے۔
آفتاب گورائیہ کا کہنا تھا کہ انہیں ایسے لوگوں سے تعلق کی ضرورت بھی نہیں جو پارٹی قیادت پر منافقانہ حملے کریں۔
انیق ناجی جو کبھی آئین کی بالادستی اور سول سُپرمیسی جیسے سیاسی نظریات کے حامل تھے، ان دنوں سوشل میڈیا پر ریاستی محکموں اور خفیہ ایجنسیوں کی حمایت میں کافی سرگرم دکھائی دیتے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی اور بھٹو خاندان ان کی تنقید کا خاص نشانہ ہیں۔
فی الوقت انیق ناجی کی جانب سے اس پوسٹ کو ڈیلیٹ کرنے یا صارفین کو بلاک کرنے پر کوئی باقاعدہ وضاحت سامنے نہیں آئی لیکن ’سکرین شاٹس‘ کی دنیا میں ان کی یہ ڈیلیٹ کردہ پوسٹ محفوظ ہو چکی ہے-
ماضی قریب میں انیق ناجی نے ن لیگ کے قائد نواز شریف کو بھی شدید کا تنقید کا نشانہ بنایا تھا- اُن کی بعض ٹویٹس بعد میں ڈیلیٹ کی گئیں-
انیق ناجی نے تین ہفتے قبل ایک پوسٹ میں لکھا کہ:
’آج کی آخری تحریر ان کے نام جو بولتے نہیں، سامنے نہیں آتے، سیاست نہیں کرتے۔ صرف اپنا کام کرتے ہیں۔
تاریخ میں لکھا جائے گا ان کا نام جن کو ISI کا ایکسٹرنل ونگ کہتے ہیں۔
اسرائیل، بھارت، UAE کا مقابلہ کرتے خاموشی سے جن کی نیندیں اجڑ گئیں۔
جن کو کبھی دنیا کے سامنے ایوارڈ نہ ملے گا۔
خدا کی قسم ان سچے سپاہیوں کا، ان کے افسران کا احسان ہم سب پر ہے جو کسی کی نظر میں نہیں۔
نام تک کوئی نہیں جانتا اور یہ ہی ان کی کامیابی ہے۔
اسرائیل، امریکہ اور بھارت جیسی امیر طاقتوں کے سامنے محدود بجٹ کے ساتھ کس طرح یہ لوگ کامیاب ہوئے یہ ان کا رب جانتا ہے یا وہ خود۔
ڈیوٹی نہیں یہ دیوانگی ہے، عبادت ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔
ان کا قرض کوئی نہیں اتار سکتا، ہم تو نہیں۔
بس ہماری خوشی، ہمارا فخر، مسکراتے چہرے ہی ان کا سرمایہ ہیں جس کے لیے یہ اپنا سب کچھ قربان کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ ہمارا فیلڈ مارشل اسی انٹیلیجنس کے نیٹ ورک سے آیا ہے جو خاموش رہتا ہے، بس کام کرتا ہے۔
نتیجہ دنیا کے سامنے ہے۔ سرحدوں پر کھڑے سپاہی ہمارا فخر اور بیرون ملک خاموش جنگ لڑتے جو سامنے بھی نہیں آتے ہمارا غرور۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد‘

