عالمی خبریں

پائلٹ کے ’سرچ و ریسکیو مشن‘ میں مصروف امریکی طیارہ بھی ایرانی حملے میں‌ تباہ

اپریل 4, 2026

پائلٹ کے ’سرچ و ریسکیو مشن‘ میں مصروف امریکی طیارہ بھی ایرانی حملے میں‌ تباہ

امریکہ کے سی بی ایس نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کی فضا میں مار گرائے گئے امریکی ایف 15 لڑاکا طیارے کے ریسکیو مشن میں شامل ایک طیارے اور ایک ہیلی کاپٹر بھی فائرنگ کی زد میں آئے ہیں۔

سی بی ایس نیوز کو دو امریکی عہدیداروں بتایا کہ سرچ اینڈ ریسکیو مشن میں حصہ لینے والا اے–10 ورتھاگ طیارہ نشانہ بنا جس کے بعد پائلٹ نے خلیج کے اوپر ایجیکٹ کیا اور اسے ریسکیو کر لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق دو ہیلی کاپٹر بھی تلاش کے عمل میں شامل تھے۔ انھوں نے ایف 15 ای کے دو رکنی عملے میں سے ایک رکن کو ریسکیو کیا ہے۔

سی بی ایس کے مطابق بازیاب ہونے والے پائلٹ کو لے جانے والا ہیلی کاپٹر چھوٹے ہتھیاروں کی فائرنگ کا نشانہ بنا جس سے عملے کے بعض ارکان زخمی ہوئے۔ ہیلی کاپٹر نے محفوظ ہنگامی لینڈنگ کی اور زخمی اہلکاروں کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔

سی بی ایس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایف 15 طیارہ مقامی وقت کے مطابق دوپہر کے اوائل میں مار گرایا گیا۔

طیارے کے دوسرے عملے کے رکن یعنی ویپن سسٹمز آفیسر کی تلاش اب بھی جاری ہے۔

ادھر ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ ’فضائی دفاعی فورس نے ایک امریکی اے 10 طیارے کو نشانہ بنایا جو جنوبی ایران میں خلیج فارس میں گِر کر تباہ ہوا۔‘

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ طیارہ کئی گھنٹے پہلے آبنائے ہرمز کے قریب نشانہ بنایا گیا تھا۔

یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ وہی اے 10 طیارہ ہے جس کے بارے میں سی بی ایس نے رپورٹ کیا ہے۔

دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی لڑاکا طیارہ مار گرائے جانے کا واقعہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات پر اثر انداز نہیں ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق ایک مختصر ٹیلی فونک انٹرویو میں صدر سے پوچھا گیا کہ ’کیا آج کے واقعات مذاکرات پر اثر ڈالیں گے؟‘

ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’نہیں، بالکل نہیں۔ یہ جنگ ہے۔ ہم جنگ میں ہیں۔‘

ادھر امریکی محکمہ دفاع کے اعداد و شمار کے مطابق ایران کے خلاف جنگ کی شروعات کے بعد سے اب تک اس کی افواج کے 365 اہلکار زخمی ہو چکے ہیں۔

اب تک امریکی فوج کے 247، بحریہ کے 63، 19 مرینز اور فضائیہ کے 36 اہلکار اس جنگ کے دوران زخمی ہو چکے ہیں۔

پینٹاگون کے اعداد و شمار کے مطابق اس جنگ کے دوران اب تک 13 اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے