انڈین پرچم بردار جہاز ایل پی جی لے کر آبنائے ہرمز سے گزر گیا
انڈیا میں حکومت نے بتایا ہے کہ ایل پی جی سے لدا ایک انڈین پرچم بردار بحری ٹینکر بحفاظت آبنائے ہرمز سے گزر گیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے 28 فروری سے شروع ہونے والے حملوں کے بعد ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ میں بحری آمد و رفت تقریباً معطل کر دی ہے، جو عالمی سطح پر خام تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم راستہ ہے۔
تاہم دنیا کا دوسرا بڑا مائع پیٹرولیم گیس خریدار ہونے کے باوجود انڈیا نے گزشتہ تین ہفتوں کے دوران اپنے کئی جہازوں کو بحفاظت گزرنے کی اجازت حاصل کر لی ہے۔
وزارتِ جہازرانی نے تصدیق کی کہ ایل پی جی بردار جہاز ’گرین سانوی‘ اس راستے سے گزر چکا ہے۔
بیان کے مطابق ’گرین سانوی 46,650 میٹرک ٹن ایل پی جی لے کر، جس پر 25 ملاح سوار ہیں، بحفاظت آبنائے ہرمز عبور کر چکا ہے۔‘ تاہم اس کی حتمی منزل کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
حکام کے مطابق 17 انڈین پرچم بردار جہاز، جن پر 460 انڈین عملہ سوار ہے، اب بھی خلیج فارس کے مغربی حصے میں موجود ہیں۔
جہازوں کی نگرانی کرنے والی کمپنی میرین ٹریفک کے ڈیٹا نے بھی تصدیق کی ہے کہ گرین سانوی ایک انڈین پرچم بردار ٹینکر ہے۔
آل انڈیا ریڈیو کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جنگ کے آغاز کے بعد یہ انڈیا جانے والا ساتواں ایل پی جی ٹینکر ہے جس نے آبنائے ہرمز عبور کی ہے۔
انڈیا کی وزارتِ پیٹرولیم و قدرتی گیس نے بھی کہا ہے کہ توانائی کے عالمی بحران سے نمٹنے کے لیے انڈین ریفائنریز ایران سمیت دیگر ممالک سے خام تیل خرید رہی ہیں۔

