مقتول ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کی بھتیجی اور نواسی امریکہ میں گرفتار
امریکہ کی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کے مقتول کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی بھتیجی اور نواسی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
سنیچر کوایک بیان میں بتایا گیا کہ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے حمیدہ سلیمانی افشار اور ان کی بیٹی کا گرین کارڈ منسوخ کر دیا ہے۔
مارکو روبیو نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں خواتین اس وقت امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئس) کی تحویل میں ہیں اور ملک سے بے دخلی کے عمل کا انتظار کر رہی ہیں۔
ایران کے سب سے طاقتور فوجی کمانڈروں میں سے ایک جنرل قاسم سلیمانی 2020 میں عراق میں ایک امریکی فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔ یہ حملہ اُس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر کیا گیا تھا۔
امریکی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ حمیدہ سلیمانی افشار ’ایران کی آمرانہ اور دہشت گرد حکومت کی کھل کر حمایت کرتی ہیں۔‘
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ سلیمانی افشار نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے ’ایرانی حکومت کا پروپیگنڈا پھیلایا۔‘
وزارتِ خارجہ کے مطابق سلیمانی افشار کے شوہر پر بھی امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم بیان میں نہ ان کی بیٹی اور نہ ہی شوہر کا نام ظاہر کیا گیا ہے۔
مارکو روبیو نے ایکس پر جاری بیان میں یہ بھی کہا کہ سلیمانی افشار اور ان کی بیٹی ’گرین کارڈ ہولڈرز تھیں جو امریکہ میں عیش و آرام کی زندگی گزار رہی تھیں۔‘

