’امن کا ایک اور موقع‘ مگر تہران کی امریکی مذاکرات کے دعوؤں کی تردید
امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس امن کے لیے ایک اور موقع ہے۔
انھوں نے امید ظاہر کی کہ وہ اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔ اس سے قبل انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران سے ’تعمیری بات چیت‘ ہوئی ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات اور بات چیت کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان کوئی رابطہ نہیں۔
وائٹ ہاؤس نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ سے متعلق ممکنہ مذاکرات کے بارے میں قیاس آرائیوں کو کم کرنے کی کوشش کی، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ دونوں فریق کسی معاہدے کی جانب ’اہم‘ پیش رفت کے قریب ہیں۔
جنگ سے متعلق بیانات کے درمیان صدر ٹرمپ کے مذاکرات سے متعلق تبصروں کے بعد ایسی خبریں سامنے آئیں کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ بات چیت میں انتظامیہ کی نمائندگی کر سکتے ہیں۔
تاہم وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صورتحال ’تیزی سے بدل رہی ہے‘ اور اس نے خبردار کیا کہ امریکہ اور ایران کے اعلیٰ رہنماؤں کے درمیان کسی باضابطہ ملاقات کا اعلان نہیں کیا گیا۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے بیان میں بتایا کہ ’یہ حساس سفارتی مذاکرات ہیں اور امریکہ میڈیا کے ذریعے مذاکرات نہیں کرے گا۔‘
لیویٹ نے کہا کہ ’یہ ایک بدلتی ہوئی صورتحال ہے اور ملاقاتوں سے متعلق قیاس آرائیوں کو اس وقت تک حتمی نہ سمجھا جائے جب تک وائٹ ہاؤس کی جانب سے باضابطہ اعلان نہ کیا جائے۔‘

