اسرائیلی فوج کے ایران میں نئے حملے، تہران میں دھماکے
اسرائیل کی افواج نے کہا ہے کہ انھوں نے تہران میں نئے حملوں کا آغاز کیا ہے جس میں دارالحکومت تہران بھر میں ’ایرانی دہشت گرد حکومت‘ کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
برطانیہ کے نشریاتی ادارے نے شہر کے اندر موجود ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے جو تہران کے مشرق، شمال اور مرکز میں دھماکوں کی اطلاعات دے رہے ہیں۔
تہران سے موصول ہونے والی تازہ تصاویر میں شہر کے مرکز سے اُٹھتے دھوئیں کے سیاہ بادل دیکھے جا سکتے ہیں۔
ادھر بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی آئی اے ای اے کا کہنا ہے کہ ایران نے ادارے کو آگاہ کیا کہ ایک اور میزائل نے ایران کے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کے احاطے کو ’نشانہ بنایا‘ ہے۔
ادارے کے مطابق ’ایران کے مطابق پاور پلانٹ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور عملے کے اراکین بھی اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔ ایرانی انتظامیہ کے مطابق پاور پلانٹ بھی معمول کے مطابق کام کر رہا ہے۔‘
آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے تنازع کے دوران جوہری تنصابات کے خطرات کی حفاظت کو یقینی بنانے اور ساری صورتحال میں ’انتہائی تحمل‘ سے کام لینے کی اپنی اپیل کو دہرایا ہے۔
گزشتہ ہفتے بھی ایران کے اس واحد فعال جوہری بجلی گھر جو جنوبی شہر بوشہر میں نشانہ بنایا گیا تھا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی تھی۔

