ایران نے ’مشکوک‘ کپ ڈیزائن پر تہران کی کیفے چین بند کر دی
ایرانی حکام نے تہران کی ایک مقبول کیفے چین کو اس کے ٹیک اوے کپوں پر بنائے گئے ڈیزائنز کے باعث بند کرنے کا حکم دے دیا ہے، جنہیں اسلامی جمہوریہ کے خلاف امریکہ، اسرائیل جنگ کے آغاز میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کی طرف اشارہ سمجھا گیا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی نیوز ایجنسی نے اس خبر کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم ایران سے باہر قائم فارسی زبان کے میڈیا کے مطابق لامیز کیفے چین کے کپوں پر ایک خالی کرسی کا ڈیزائن بنایا گیا تھا، جسے حکام نے خامنہ ای کے قتل اور ان کے بیٹے و جانشین مجتبیٰ خامنہ ای کے منظر عام پر نہ آنے پر تبصرہ قرار دیا۔
تسنیم اور مہر نیوز ایجنسی کے مطابق عدلیہ کے حکم پر تہران میں لامیز کی شاخیں بند کر کے سیل کر دی گئی ہیں۔
ان رپورٹس میں کہا گیا کہ کیفے نے ’حالیہ دنوں میں اپنی مصنوعات پر شہید امام کے خلاف مشکوک ڈیزائنز تیار کیے‘، جس سے مراد خامنہ ای ہیں۔
کیفے نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس (جو اب بند کیے جا چکے ہیں) پر جاری بیان میں کہا کہ وہ گزشتہ برسوں سے ایرانی نئے سال نوروز کے موقع پر خصوصی کپ تیار کرتا آیا ہے، جو اسی ماہ منایا گیا۔
کیفے نے کسی بھی سیاسی مقصد کی تردید کرتے ہوئے کہا: ’ان کے کپس کا حالیہ واقعات سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کی تیاری، حتمی ڈیزائن کی منظوری سے لے کر پرنٹنگ تک، کئی ماہ میں مکمل ہوئی، اور ان کی مکمل ترسیل بھی ان واقعات سے پہلے ہو چکی تھی۔‘
ایران سے باہر کے میڈیا کی جانب سے شیئر کی گئی تصاویر میں کپ پر رنگ برنگی بوندوں کے ساتھ ایک خالی کرسی دکھائی گئی۔
یہ کیفے چین تہران میں 20 سے زائد شاخوں کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی موجود ہے، تاہم اس کارروائی سے صرف تہران کی شاخیں متاثر ہونے کا امکان ہے۔
حالیہ
برسوں میں تہران اور ایران کے دیگر بڑے شہروں میں کیفے کلچر میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جہاں خصوصی کافی شاپس نہ صرف ملاقات کی جگہ بلکہ فنکارانہ سرگرمیوں کے مراکز کے طور پر بھی ابھر رہی ہیں۔
یہ کیفے بعض اوقات حکام کی جانب سے خواتین کے لباس سے متعلق اسلامی قوانین پر عملدرآمد نہ کرنے کے الزامات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔

