عالمی خبریں

معاہدہ ’بہت جلد‘ ہو سکتا ہے، تیل لینے کے لیے خارگ جزیرے پر قبضہ بھی ممکن: صدر ٹرمپ

مارچ 30, 2026

معاہدہ ’بہت جلد‘ ہو سکتا ہے، تیل لینے کے لیے خارگ جزیرے پر قبضہ بھی ممکن: صدر ٹرمپ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ’ایران کے تیل کے بڑے مرکز خارگ جزیرے پر قبضہ بھی کر سکتے ہیں وہاں کا تیل لے سکتے ہیں-‘

فنانشل ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ’سچ یہ ہے کہ میرا پسندیدہ آپشن یہ ہے کہ ایران کا تیل لے لیا جائے لیکن امریکہ میں کچھ بے وقوف لوگ کہتے ہیں ’آپ ایسا کیوں کریں گے؟ وہ لوگ بے وقوف ہیں۔‘

صدر ٹرمپ نے اس بات کا اشارہ دیا کہ اس اقدام کا مطلب خارگ جزیرے پر طویل عرصے کے لیے کنٹرول حاصل کرنا بھی ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’شاید ہم خارگ جزیرہ لے لیں، شاید نہ لیں۔ ہمارے پاس بہت سے آپشن موجود ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ اس کا مطلب یہ بھی ہوگا کہ امریکہ کو وہاں ’کچھ عرصے کے لیے موجود رہنا پڑے گا۔‘

جب اُن سے جزیرے پر ایرانی دفاع کی موجودگی کے بارے میں پوچھا گیا تو صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میرا نہیں خیال کہ ان کے پاس کوئی دفاع ہے۔ ہم اس کو بہت آسانی سے لے سکتے ہیں۔‘

امریکی صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں مزید ساڑھے تین ہزار امریکی فوجی پہنچے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی ثالثی کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں تاہم انھوں نے اس بارے میں کچھ نہیں کہا کہ کیا جنگ بندی کا معاہدہ جلد ممکن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کافی تیزی سے ایک معاہدہ ہو سکتا ہے۔‘

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ’تین ہزار اہداف رہتے ہیں۔ ہم نے 13 ہزار اہداف پر بمباری کی ہے۔‘

انھوں نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ ایران نے پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے جس کی ان کے بقول ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر غالیباف نے اجازت دی۔

امریکہ کے صدر نے کہا کہ مذاکرات ’بہت اچھے جا رہے ہیں۔‘

ادھر ایئر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے اشارہ کیا کہ بذریعہ پاکستان ایران کو پیغامات بھیجے گئے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ بالواسطہ اور براہ راست بات چیت کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے ایران نے 10 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی اور اس بار اس نے 20 بڑے تیل بردار جہاز ’بطور تحفہ‘ اور ’احتراماً‘ گزرنے کی اجازت دی ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم مذاکرات میں بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ لیکن آپ ایران پر اعتماد نہیں کر سکتے۔ ہم ان سے بات چیت کرتے ہیں مگر ساتھ انھیں نشانہ بھی بنانا پڑتا ہے، چاہے بی ٹو بمبار طیاروں کے ذریعے ہو یا جوہری معاہدے کا خاتمہ۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے