بغیر رضامندی ہاتھ چومنا بھی جنسی حملہ قرار، سپین کی سپریم کورٹ کا فیصلہ
سپین کی سپریم کورٹ نے ایک حالیہ تاریخی فیصلے میں یہ واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی شخص کی مرضی کے بغیر اس کے ہاتھ کا بوسہ لینا محض سڑکوں پر ہونے والی عام چھیڑ چھاڑ یا ہراسانی نہیں بلکہ باقاعدہ جنسی حملہ تصور کیا جائے گا۔
یہ فیصلہ پیر کے روز فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی جانب سے حاصل کردہ عدالتی دستاویزات کے ذریعے سامنے آیا ہے جس نے قانونی حلقوں اور عوامی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
عدالت کا یہ فیصلہ میڈرڈ کے مضافاتی علاقے الکوبینڈاس میں پیش آنے والے 2023 کے ایک واقعے کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ اس واقعے میں ایک شخص نے بس اسٹاپ پر کھڑی خاتون کی رضامندی کے بغیر اس کے ہاتھ کا بوسہ لیا تھا اور رقم کی پیشکش کرتے ہوئے اسے نازیبا انداز میں اپنے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا تھا۔ اگرچہ ملزم کے وکلاء نے عدالت میں یہ موقف اختیار کیا کہ اس عمل کو محض عام ہراسانی کے زمرے میں رکھا جائے، تاہم عدالت نے اس دلیل کو مسترد کر دیا۔
سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں صراحت کی کہ جنسی نوعیت کا کوئی بھی جسمانی لمس عام ہراسانی کی حدود سے تجاوز کر جاتا ہے۔
عدالت کے مطابق ملزم کا یہ عمل واضح طور پر خاتون کی جنسی سالمیت کی خلاف ورزی کرنے کی نیت پر مبنی تھا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ یہ ایک جنسی حملہ تھا کیونکہ اس فعل کا انداز اور لہجہ سراسر جنسی تھا جسے برداشت کرنے کی شکار خاتون پر کوئی اخلاقی یا قانونی ذمہ داری نہیں تھی، اور اس حرکت نے خاتون کی حیثیت کو کم کر کے اسے محض ایک شے کے طور پر پیش کیا۔
اس فیصلے کے نتیجے میں عدالت نے ملزم پر 1500 یورو سے زائد کا جرمانہ برقرار رکھا ہے جو اسے ابتدائی سزا میں سنایا گیا تھا۔ واضح رہے کہ اسپین صنفی بنیاد پر ہونے والے تشدد کے خلاف قانون سازی میں عالمی سطح پر ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ سنہ 2022 میں اسپین نے عصمت دری کے قوانین کو مزید سخت کرتے ہوئے کسی بھی جنسی عمل کے لیے واضح اور صریح رضامندی کو لازمی قرار دے دیا تھا، جو کہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور خواتین کی طویل جدوجہد کا نتیجہ تھا۔
قانونی سختی کی یہ لہر سپین میں مسلسل جاری ہے۔
یاد رہے کہ سنہ 2025 میں ہسپانوی فٹ بال فیڈریشن کے سابق سربراہ لوئس روبیلس کو بھی اسی قسم کے ایک مقدمے میں سزا سنائی گئی تھی۔
انہوں نے 2023 کے ویمنز ورلڈ کپ کے فائنل کے بعد فٹ بال کھلاڑی جینی ہرموسو کو ان کی مرضی کے بغیر بوسہ دیا تھا، جس پر عدالت نے انہیں جنسی حملے کا مجرم قرار دیتے ہوئے 10,800 یورو کا بھاری جرمانہ عائد کیا تھا۔ اسپین کے یہ عدالتی فیصلے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ اب رضامندی کے بغیر کسی بھی قسم کا جسمانی لمس ناقابل قبول اور قابل سزا جرم ہے-

