چین کے لیے 20 لاکھ بیرل خام تیل سے لدے کویتی بحری جہاز پر ایرانی ڈرون حملہ
متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی میں حکام نے کہا ہے کہ ایرانی ڈرون حملے کے بعد کویت کے جس آئل ٹینکر کو آگ لگی اُس سے سمندر میں تیل کا رساؤ نہیں ہوا۔
قبل ازیں یہ خبر آئی تھی کہ تیل بردار بحری جہاز ’السلْمی‘ جو 20 لاکھ بیرل خام تیل لے کر چین جا رہا تھا کہ ایران کی جانب سے بھیجے گئے ڈرون کے حملے کا نشانہ بنا اور اس میں آگ بھڑک اٹھی۔
دبئی میڈیا آفس نے بعد میں اس بات کی تصدیق کی کہ امدادی کارروائیوں کے دوران ٹینکر پر لگی آگ پر قابو پا لیا گیا اور اس جہاز سے نہ تو تیل کا رساؤ ہوا اور نہ ہی کوئی جانی نقصان ہوا۔
اس سے قبل کویت نے تصدیق کی تھی کہ ایران نے دبئی کی ایک بندرگاہ پر لنگر انداز اس کے ایک بڑے خام تیل کے ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے۔
کویت پیٹرولیم کارپوریشن نے اس واقعے کو ’ایران کا ایک وحشیانہ فضائی حملہ‘ قرار دیا اور بتایا کہ جہاز کو کچھ نقصان پہنچا ہے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
ٹینکر ’السلْمی‘ حملے کے وقت مکمل طور پر تیل سے بھرا ہوا تھا، جس کے باعث حملے کے فوراً بعد اس میں آگ بھڑک اٹھی۔
دبئی حکام نے کہا کہ حملہ ایک ڈرون کے ذریعے کیا گیا اور چند گھنٹوں کے بعد آگ پر قابو پا لیا گیا۔
انھوں نے بتایا کہ عملے کے تمام 24 افراد اس حملے میں محفوظ رہے ہیں۔
ابتدائی طور پر کویت نے حملے کے بعد ممکنہ تیل کے اخراج سے خبردار کیا تھا، تاہم برطانیہ کے میری ٹائم مانیٹر کے مطابق ’ماحولیاتی اثرات کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔‘
رائٹرز کے مطابق لائیڈز اور ٹینکر ٹریکرز کے ڈیٹا کے حوالے سے بتایا گیا کہ ’السلْمی‘ میں کویت اور سعودی عرب سے دو ملین بیرل تیل لدا ہوا تھا۔ لائیڈز کے مطابق اس کی منزل چین کا شہر چنگ ڈاؤ تھی۔
تاہم کویت نیوز ایجنسی کے مطابق کویتی فوج نے اس کا فضائی دفاعی نظام ’دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں‘ کا جواب دے رہا ہے۔
کویت کے مطابق ایرانی فضائی حملے کا نشانہ بننے والے اس بڑے آئل ٹینکر میں لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔

