میانمار میں اقتدار پر فوج کا قبضہ برقرار، پارلیمنٹ نے حکمران جنرل کو صدر منتخب کر لیا
میانمار کی پارلیمنٹ نے جمعہ کے روز مین آنگ ہلائنگ کو ملک کا نیا صدر منتخب کیا، جو ایک جنرل ہیں جنہوں نے 2021 میں آنگ سان سو چی کی سول حکومت کو ہٹا کر اقتدار پر قبضہ کیا تھا اور گزشتہ پانچ سالوں سے ملک پر کڑا کنٹرول رکھا ہوا ہے۔
خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ اقدام بظاہر منتخب حکومت کی طرف واپسی کی نشاندہی کرتا ہے، لیکن عام طور پر اسے فوج کو اقتدار میں رکھنے کی کوشش سمجھا جاتا ہے، جس کے بعد فوج کی نگرانی میں منعقد ہونے والے انتخابات کو مخالفین اور آزاد مبصرین نے نہ آزادانہ اور نہ ہی منصفانہ قرار دیا، جبکہ ملک میں خانہ جنگی کی صورتحال بھی جاری ہے۔
براہ راست فوج کی حکومت سے پارلیمنٹ کے ذریعے چلانے جانے والی برائے نام منتخب حکومت کی طرف اقتدار کی منتقلی کو فوجی قبضے کے بعد کچھ جنوب مشرقی ایشیائی ہمسایہ ملکوں کے ساتھ کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے کے طریقے کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔
چین اور روس نے فوجی انتظامیہ کی حمایت کی ہے جبکہ مغربی طاقتوں نے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

